29

پیٹرول ڈیزل گیس بجلی سب کچھ مہنگا لیکن عوام پھر بھی بجلی کو ترس گئی جھنگ میں شہری علاقوں میں غیر اعلانیہ 10/12 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

پیٹرول ڈیزل گیس بجلی سب کچھ مہنگا لیکن عوام پھر بھی بجلی کو ترس گئی جھنگ میں شہری علاقوں میں غیر اعلانیہ 10/12 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
جھنگ (محمد جاوید اعوان) حکومت پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے احکامات جاری کرنے کے بعد بھی جھنگ میں لوڈ شیڈنگ کم نہ کی جا سکی شہری علاقوں میں دس سے بارہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری ہے جھنگ کے واپڈا آفسران نے وزیر اعظم پاکستان اور چیف آفیسر فیسکو کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا شہریوں کا کہنا تھا کہ سخت ترین گرمی کے موسم میں لوڈشیڈنگ کرکے عوام کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے ایک طرف تو وزیر اعظم ہنگامی اجلاس طلب کرکے واپڈا کے آفسران پر اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہیں اور وارننگ دیتے ہیں کہ صرف دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جائے اس سے زیادہ اگر لوڈشیڈنگ کی تو اسکے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی لیکن جھنگ میں تو دس سے بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے کیا جھنگ پاکستان کا حصہ نہیں ہے کیا جھنگ کے واپڈا کے آفسران پر وزیراعظم کے احکامات نہیں لاگو ہوتے ہیں شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کرکے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے دعوے عوام کو نہیں چاہیے عوام کو عملی کام چاہیے جو کہ جھنگ میں واپڈا آفسران کی جانب سے نہیں ہو رہے ہیں عوام ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے تو دوسری طرف لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینے کا حق بھی چھین لیا ہے کاروباری مراکز تباہ ہو چکے گھریلو صارفین ازیت میں مبتلا ہیں معصوم بچوں کی رونے کی نہیں بلکہ تڑپنے کی آوازیں آتی ہیں لوگوں کے گھروں میں پانی کی قلت ہو جاتی ہے لیکن شاید جھنگ کے آفسران ان تمام حقائق سے آگاہ نہیں ہیں اور اگر آگاہ ہیں بھی تو پھر بھی انہوں نے وزیراعظم پاکستان کے احکامات کو نہ ماننے کا تہیہ کیا ھوا ھے شہریوں نے وزیر اعظم پاکستان اور وزارت بجلی اور اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں