186

شور کوٹ کے مقامی شہری نے حسن میڈیکل کمپلیکس کوٹھی اڈا ملتان روڈ شور کوٹ کے ڈاکٹر حسن اور لیڈی ڈاکٹر مسز حسن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے CEO ہیلتھ اتھارٹی کو درخواست دے دی ذرائع

شور کوٹ کے مقامی شہری نے حسن میڈیکل کمپلیکس کوٹھی اڈا ملتان روڈ شور کوٹ کے ڈاکٹر حسن اور لیڈی ڈاکٹر مسز حسن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے CEO ہیلتھ اتھارٹی کو درخواست دے دی ذرائع
جھنگ(جاوید اعوان سے)شور کوٹ کے مقامی شہری نذر محمد نے حسن میڈیکل کمپلیکس کوٹھی اڈا ملتان روڈ شور کوٹ کے ڈاکٹر حسن اور لیڈی ڈاکٹر مسز حسن کے خلاف غیر قانونی پریکٹس کرنے کے بارے قانونی چارہ جوئی کے لیے چیف ایگزیکٹو ہیلتھ اتھارٹی جھنگ کو درخواست دے دی تفصیلات کے مطابق مقامی شہری نے میڈیا ٹیم کو بیان دیتے ھوئے بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی نازیہ بی بی کو ڈیلیوری کے سلسلے میں حسن میڈیکل کمپلیکس میں داخل کروایا کیونکہ ہسپتال کے مالک نے ہسپتال کے باہر مختلف ڈاکٹر حضرات کے بڑے بڑے بورڈ آویزاں کیے ھوئے ہیں جن میں لیڈی ڈاکٹرز کے نام بھی شامل ہیں۔ مگر میری بیٹی کا آپریشن ڈاکٹر حسن کی بیوی جو کہ اپنے آپ کو لیڈی ڈاکٹر کہتی ھے نے کیا ذرائع بتا رھے ہیں کہ وہ LHV بھی نہیں ھے مریضہ کی طبیعت خراب ھونے پر ڈاکٹر حسن (جو کہ ڈاکٹر نہ ھے) نے انجکشن لگایا جس سے مریضہ کی طبیعت ضرورت سے زیادہ خراب ھو گئی تو مجھے کہا گیا کہ اب آپ مریضہ کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال شور کوٹ لے جائیں میرے شور مچانے کے باوجود میری بیٹی کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ۔ جب موقف کے لیے حسن سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ میں ڈاکٹر نہیں ھوں اور نہ ھی میری بیگم ڈاکٹر ھے میں تو حسن میڈیکل کمپلیکس کا مالک ھوں عمارت میری ھے اور میں اس ہسپتال کا فوکل پرسن ھوں نہ تو میری بیگم نے آپریشن کیا ھے اور نہ ھی میں نے مریضہ کو کوئی انجکشن لگایا ھے آپریشن لیڈی ڈاکٹر نے ھی کیا ھے اور صحت یاب ھونے کے بعد مریضہ کو ڈسچارج کیا ھے
شہری نذر محمد اور سماجی حلقوں نے چیف سیکریٹری پنجاب صوبائی سیکرٹری صحت کمشنر فیصل آباد ڈویژن فیصل آباد اور محمد ارشد بھٹی ڈپٹی کمشنر جھنگ سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ھے
مزید سماجی اور سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی نے پنجاب ہیلتھ کمیشن سے بھر پور مطالبہ کیا ھے کہ ضلع بھر میں اتائی ڈاکٹروں اور اتائی ہسپتالوں اور ان ڈاکٹرز حضرات جنہوں نے 50/50 ہزار روپے ماہانہ لے کر مختلف جگہوں پر اپنے نام کے بورڈ لگوا کر اتائی ڈاکٹروں اور اتائی ہسپتالوں کو آکسیجن دی ھوئی ھے کے خلاف بھی سخت سے سخت کارروائی کی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں