56

*ماضی کے جھروکوں سے ایک حلقے کا منظر نامہ. . . . . تحریر آصف رضا اصف*

*ماضی کے جھروکوں سے ایک حلقے کا منظر نامہ. . . . . تحریر آصف رضا اصف* . . . . یہ سن 2007 کا الیکشن تھا مسند اقتدار پر جنرل پرویز مشرف کا سورج پوری اب و تاب سے دمک رھا تھا اور جنرل صاحب سابقہ اسمبلیوں سے ہی اگلے پانچ سال کے لیے صدر پاکستان منتخب ہو چکے تھے محترمہ بینظیر صاحبہ اس جہان فانی سے کوچ کر چکی تھیں اور تحریک انصاف انتخابات کا بائیکاٹ کر چکی تھی قاف لیگ کو کنگز پارٹی کے نام سے جانا جاتا تھا ہر کس و ناکس قاف لیگ کا ٹکٹ حاصل کرناچاہتا تھا کیونکہ یہ بات زبان زد عام تھی کہ اگلے پانچ سال بھی ق لیگ کے ہی ہیں اور اس کی ایک وجہ چوہدری پرویز الہی کے ترقیاتی کام بھی تھے جو اس نے بلا شبہ کیے بھی تھے دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص نون لیگ کو ریاستی جبر سے پوری طرح دبا دیا گیا تھا جس جگہ میری رہائش ہے یہ علاقہ موجودہ قومی اسمبلی کا حلقہ NA102 اس وقت NA 84 ہوا کرتا تھا اور یہاں سے رانا زاہد محمود (اس وقت کے مرد اہن) ق لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے ان کے ساتھ صوبائی اسمبلی میں چوہدری ممتاز علی چیمہ (مرحوم) ق لیگ کے ٹکٹ ہولڈر تھے میری سیاسی وابستگی ق لیگ سے تھی اور میں شمع بیکری چوک میں چیمہ صاحب کا انتخابی دفتر بھی چلا رہا تھا جو بنیادی طور پر میرا صحافتی دفتر تھا لیکن ان دنوں اسے سیاسی سر گرمیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا ان دنوں علامہ اقبال کالونی ڈی ٹائپ کالونی غرض حلقے کی ہر گلی ہر بازار میں سڑکوں پر مین شاہراہوں پر ہر طرف سائیکل کے انتخابی نشان سے مزین بینرز اور جھنڈے دکھائی دیتے طارق بشیر غوری جیسی نمایاں سیاسی شخصیات سے لے کر ایسی کاروباری شخصیات جن کا کبھی بھی سیاست سے دور تک کا تعلق نہیں رہا تھا چیمہ صاحب کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کروا چکے تھے پیپلز پارٹی کی طرف سے ملک اصغر علی قیصر مقدور بھر کوششیں جاری رکھے ہوۓ تھے مگر ن لیگ دور تک منظر نامے میں نظر نہیں ارہی تھی میرا پولنگ اسٹیشن ریاض پارک میں بنا الیکشن کے دن کا سورج طلوع ہوا شام ڈھلی رزلٹ اناؤنس ہوا تو تمام اندازے دعوے اور یقین دھرے کے دھرے رہ گئے ہر طرف دکھائی دینے والے منظر سے غائب ہو چکے تھے اور جو منظر نامہ میں کہیں نظر نہیں ارہے تھے ایک حقیقت بن کر ابھرے تمام تر ریاستی پشت پناہی کے باوجود ق لیگ کے امیدوار ہار چکے تھے اور ن لیگ کے امیدوار کامیاب ہو چکے تھے چوہدری عابد شیر علی MNAاور ڈاکٹر خالد امتیاز خان بلوچMPA بن چکے تھے الیکشن کے اگلے دن ہارنے کے باوجود ملک اصغر علی قیصر صاحب جوppp کی طرف سے صوبائی حلقہ کے امیدوار تھے اپنے حلقہ کے ووٹروں سپورٹروں اور عام عوام سے گلے مل کر ان کا شکریہ ادا کر رہے تھے میری ملاقات ان سے ٹینکی والا چوک میں اس وقت ہوئی جب میں شاہ پان شاپ سے پان لگوا رہا تھا قیصر صاحب صحافت کے علاوہ مجھے اس حوالہ سے بھی جانتے تھے کہ میں ان کے سیاسی حریف (چیمہ صاحب ) کا صف اول کاسپاہی تھا. مجھ پر نظر پڑتے ہی قیصر صاحب اپنی گاڑی سے اترے اور مسکراتے ہوۓ میری طرف بڑھے میں نے بھی بڑھ کر سلام کیا مگر انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور ساتھ ہی ایک تاریخی جملہ کہا جو اج تک میری سماعتوں میں گونج رہا ہے. . اصف مجھے اپنے ہارنے کا افسوس نہیں بلکہ اس بات کی خوشی ھے کہ جمہوری قوتوں کی جیت ھوئی ھے. . . . . . .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں