167

انا در اصل وہ دھوکہ اور فریب ھے جو ہم اپنی ذات سے کرتے ہیں اور یہ وہ لبادہ ہے جو ہم شوق سے اوڑھ لیتے ہیں

انا در اصل وہ دھوکہ اور فریب ھے جو ہم اپنی ذات سے کرتے ہیں اور یہ وہ لبادہ ہے جو ہم شوق سے اوڑھ لیتے ہیں یا وہ خول ھے جس میں ہم اپنے آپ کو مقید کرلیتے ہیں یہ وہ دلفریب فریب ہے کہ جس کے بارے میں عقل سلیم اور ضمیر آپ کو اشارہ کرتا ہے مگر آپ آنکھیں چرا کر پھر مبتلا ہوجاتے ہیں در اصل یہ غرور کی ھی شکل ھے اپنے آپ کو عالی مرتبت عالی نسل خوبصورت اور باصلاحیت سمجھنا اور دوسروں کو کمتر جاننا اِسکی دو صورتیں ہیں جب اللہ تعالٰی انسان کو خوبصورتی کامیابی عہدے یا ترقی سے نوازتا ھے یا جب انسان کسی ٹیم یا خاندان کو لیڈ کر رہا ہوتا ہے یا اللہ تعالیٰ اِسکی صلاحیتوں کو نکھار کر اسے پاپولر بنا دیتا ہے کہ لوگ اس کو سنتے اور دیکھتے ہیں یا اپنے کاموں کیلئے اِس کے پاس جانے لگتے ہیں تو یہی وقت ہے جب یہ ناسور انسان کے اندر پلنے لگتا ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تمام رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے دوسری صورت میں جب انسان سے چھوٹا یا جونیئر انسان کے برابر آنے لگتا ھے یا آگے بڑھ جاتا ہے تو آپ اسے کم تر جانتے ہوئے اُسکی خامیاں تلاش کرتےہیں بطور انسان ہم پُتلا خطا ہیں ہم سب سے غلطیاں اور گناہ سر زد ہوتے ہیں مگر ہم عام طور پر لوگوں کے ان گناہوں کا جو کہ منظر عام پر آجاتے ہیں کتنی فخر سے پرچار کرتے ہیں حالانکہ کم و بیش ہم سب ان میں مبتلا ہوتے ہیں اپنے گناہ اور خامیوں کو چھپا ہوا اور اپنے آپ کو ذی قدر سمجھ کر دوسروں کی برائیاں بیان کر کے در اصل ہم اپنی جھوٹی انا کی تسکین کر رہے ہوتے ہیں انسان کے اندر انا کا یہ بت پیدا کرنے میں اپنی ذات کے ساتھ ساتھ انسان کے ارد گرد خوشامدی مطلب پرست لوگوں کا بھی کردار ھوتا ھے جو انسان کو اِسکی وہ حیثیت بتاتے ہیں جو در اصل نہیں ھوتی اور یوں انسان غرور میں مبتلا ہو کر سچے اور حقیقی رشتوں سے دور ہوجاتا ہے یہ وہ شیطانی صفت ھے جس نے ابلیس کو جو کہ فرشتوں کا سردار تھا راندہ درگاہ کیا ہم عام طور پر لوگوں سے سنتے ہیں کہ میں کوئی عام آدمی ہوں در اصل یہی اس فتنے کی بنیاد ہے اگر ہم خاص ہیں تو اس عام بندے کے غلام ہیں کیوں کہ یہی اصول حکمرانی ہے کہ سربراہ مملکت سے لیکر باقی تمام عہدیداران اور اعلیٰ صلاحیتو ں والے لوگ عام آدمی کی خدمت کیلیے ھیں
بقول جون ایلیا
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں
آخر میرے مزاج میں کیوں کوئی دخل دے
عام طور لفظ انا کیلئے انگریزی لفظ Ego استمعال کیا جاتا ہے جو بلکل غلط ہے کیوں کہ Ego کہ معنی انا نہیں بلکہ خودی کے ہیں
انا کیلئے انگریزی لفظ Self ہی ٹھیک ھے کیوں کہ انا شیطانی صفت ھے اور خودی انسان کو خدا سے ملاتی ھے خودی در اصل وہ فوقیت ھے جو اللہ باری تعالیٰ نے انسان کو دوسری مخلوقات پر دی ھے نا کہ اپنے آپکو بالاتر سمجھ کر دوسروں کو کمتر جاننے کا نام ھے خودی دراصل خود کو پہنچا ننے اپنی صلاحیتو ں طاقتوں اختیارات اور حدود کا تعین کرنا ھے
بقول اقبال
فنا کر کے انا کو جاوداں ہوجا
خودی پا کر بحر بے کراں ہوجا
گر دوام زندگی چاہیے اے انسان
نکل کر ذات سے باہر عیاں ہو جا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں