12

اٹھارہ ہزاری (نمائندہ سٹی ون نیوز) غیر قانونی فیکٹریوں اور بھٹہ خشت کے دھواں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی!!آبادی کے اندر موجود یونٹس کی آلودگی سے سانس لینا محال ھو چکا ھے!!محکمہ ماحولیات اپنا حصہ لے کر خاموش!!عوامی سماجی حلقوں کا شدیداحتجاج!!ڈی جی ماحولیات اور ڈپٹی کمشنر جھنگ سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

اٹھارہ ہزاری (نمائندہ سٹی ون نیوز) غیر قانونی فیکٹریوں اور بھٹہ خشت کے دھواں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی!!آبادی کے اندر موجود یونٹس کی آلودگی سے سانس لینا محال ھو چکا ھے!!محکمہ ماحولیات اپنا حصہ لے کر خاموش!!عوامی سماجی حلقوں کا شدیداحتجاج!!ڈی جی ماحولیات اور ڈپٹی کمشنر جھنگ سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق اٹھارہ ہزاری اور گردونواح میں آبادی کے اندر بننے والی جگہ جگہ غیر قانونی سینکڑوں سمال انڈسٹریز نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہوئی ہے۔ان سمال انڈسٹیریز میں جب سے تیل مہنگا ہوا ہے ان مالکان نے فرنس آئل کی جگہ پلاسٹک شیٹس اور شاپنگ بیگ سے بنا ایک مٹیریل جسے ٹانڈہ کہا جاتا ہے استعمال کررہے ہیں جو قیمت میں تو سستا ہے مگر انتہائی زہریلا اور ماحول دشمن ہے۔اس میٹریل کے جلنے سے مضر صحت دھواں اٹھتا ہے جس سے سارے شہر کی فضا آلودہ ہوجاتی ہے اور سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے اسکے علاوہ شہر کے گردونواح میں کثیر تعداد میں موجود بھٹہ خشت اور فیکڑیوں سے اٹھنے والے دھویں نے بھی شہریوں کو مشکلات کا شکار کر رکھا ہے خصوصاًرات کے وقت ان فیکٹریوں اور بھٹہ خشت سے نکنے والے زہریلے دھواں کو گھروں کے اندر لگے پنکھے کھینچ کر مکینوں کے منہ پر مارتے ہیں جس سے گھر کے اندر بھی تازہ سانس نہیں مل سکتا۔اس سمال انڈسٹریز اور فیکٹریوں کے آلودہ ماحول کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد خصوصاًبچے اور بزرگ بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر اگلے جہان منتقل ھو چکے ہیں جبکہ متعلقہ محکمے اپنا اپنا حصہ وصول کرکے سب اچھا کی رپوٹ دے رہے ہیں۔شہر کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی جی ماحولیات اور ڈپٹی کمشنر جھنگ سمیت تمام متعلقہ محکموں کے اعلی حکام سے فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنے اپنے کرپٹ اہلکاران کے خلاف سخت کاروائی کرنے اور اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں