25

وہاڑی(نمائندہ سٹی ون نیوز) ،چیف آف آرمی سٹاف کو نشانہ بنانا ادارے اور ملک کی بنیادوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ ایڈووکیٹ ثریابشیر قصوری،

وہاڑی(نمائندہ سٹی ون نیوز) ،چیف آف آرمی سٹاف کو نشانہ بنانا ادارے اور ملک کی بنیادوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ ایڈووکیٹ ثریابشیر قصوری

فوج پر تنقید کرنا آسان ہے، لیکن قربانیوں کے پیچھے چھپی حقیقتوں کو کوئی نہیں جانتا، ایڈووکیٹ ثریابشیر قصوری نے میڈیا ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ جیسے کہ وہ جن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے ان کے لیے زندہ رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔کوئی سیاسی جماعت آپ کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی۔ سرحد پر ایک سیاسی شخصیت بھی آپ کی جان نہیں لے گی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کس کی پیروی کر رہے ہیں، مقابلہ جاری رکھیں، لیکن اپنے محافظوں کو کبھی کم نہ سمجھیں اور نہ ہی نیچا کریں۔سیاسی فائدے کے لیے آرمی چیف اور پاک فوج کو بدنام کرنا ملکی سالمیت پر حملے کے مترادف ہے۔ ہم آزادی کے بعد سے مسلسل جنگوں اور خطرات میں گھرے ہوئے ہیں، اور یہ صرف فوج کی وجہ سے ہے کہ ہمارا ملک متحد ہے۔ پاک فوج سرحدوں کی دراندازیوں سے حفاظت کر رہی ہے۔ وہ ان مشکل حالات میں ہماری حفاظت کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ میں پاک فوج کے شہید جوانوں کو سلام پیش کرتی ہوں جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور اپنے خون سے ہماری آزادی کے چراغ جلا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنےوالے#BajwaHasToGo اور #BajwaTraitor جیسے توہین آمیز رجحانات اور پوسٹس نامناسب اور نفرت انگیز ہیں۔ ہماری فوج عزت اور تعریف کی مستحق ہے۔ برائے مہربانی COAS اور پوری فوج کو ایسے نامناسب/تضحیک آمیز رجحانات، پوسٹس اور تبصروں سے دور رکھیں۔میں سیاسی جماتوں کے اندھے پیروکاروں اور سیاستدانوں کے بیانیے کی پرزور مذمت اور اختلاف کرتی ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ عوام اورکارکنوں کا کیا قصور ہے۔ صرف اپنی خونی انا کی تسکین کے لیے آپ اس پورے ادارے کی قربانیوں کو ضائع نہیں کر سکتے۔ شرم آنی چاہیے جو اس خونی کھیل کا حصہ ہیں۔ اپنے لیڈر قائد ا عظم محمدعلی جناح کی طرح پرسکون اور محب وطن بنیں۔ پاک فوج مخالف مہم کا حصہ نہ بنیں اور ان سوشل میڈیا ہینڈلرز کو آپ کو پاکستان مخالف موقف کی طرف لے جانے نہ دیں۔ ہم سب کو اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ہم یہاں ہیں کیونکہ وہ سرحد پر ہیں۔ ہمیں جو آزادی حاصل ہے وہ ان کی وجہ سے ہے جنہوں نے قوم کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ برائے مہربانی انہیں تنقید سے بچائیں.ہمارا جھنڈا اس لیے نہیں اڑتا کہ ہوا چلتی ھے۔ یہ ہر اس سپاہی کی آخری سانس کے ساتھ اڑتا ھے جو اس کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ھوا۔ ملک بلاشبہ ان سورماؤں کا مقروض ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں