26

جھنگ۔زراعت کے شعبہ ایگریکلچر ریسرچ میں بدعنوانیاں بےضابطگیاں لوٹ مار عروج پر۔بغیرکسی آکشن کے سرسبزسرکاری درختوں کاقتل عام۔ایگریکلچرل ریسرچ فارم کے رقبہ پر کئی ایکڑفصل جوار باجرہ بغیر کسی اکشن کے خوردبرد۔خزانہ سرکار کو سالانہ کروڑوں روپے کا چونا۔ڈائریکٹرایگریکلچر ریسرچ زراعت سرپرستی کرنے میں مصروف۔اعلی حکام نوٹس لیں شہریوں کی اپیل۔

جھنگ۔زراعت کے شعبہ ایگریکلچر ریسرچ میں بدعنوانیاں بےضابطگیاں لوٹ مار عروج پر۔بغیرکسی آکشن کے سرسبزسرکاری درختوں کاقتل عام۔ایگریکلچرل ریسرچ فارم کے رقبہ پر کئی ایکڑفصل جوار باجرہ بغیر کسی اکشن کے خوردبرد۔خزانہ سرکار کو سالانہ کروڑوں روپے کا چونا۔ڈائریکٹرایگریکلچر ریسرچ زراعت سرپرستی کرنے میں مصروف۔اعلی حکام نوٹس لیں شہریوں کی اپیل۔
جھنگ (بیورو رپورٹ) ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ زراعت شیخوپورہ کی سرپرستی میں فارم منیجر ایگریکلچر ریسرچ زراعت جھنگ تنویر اکبر کی کرپشن بدعنوانیاں بےضابطگیاں دن بدن عروج پکڑتی جا رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ھے کہ تنویر اکبر نامی فارم منیجر جو کہ جھنگ کا رہائشی ھے اور عرصہ تقریباً پانچ سال سے زائد بطور فارم منیجر کی سیٹ پر براجمان ھے۔اس نے اپنے عہدے کے سہارے پر خزانہ سرکار کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ھے اور سرکاری زمین ملکیت ایگریکلچر ریسرچ زراعت کی تیاری کی مد میں گھپلے کرنے کا انکشاف ھوا ھے۔ کھادیں۔بیج۔ڈیزل اپنے ذاتی استعمال میں لاتا ھے۔ذرائع نے یہ بھی واضح کیا ھےکہ ایگریکلچر ریسرچ فارم کی 135کنال زمین جو کہ ضلع کچہری کے نام مختص کی گئی ھے اس کو موصوف نے بغیر کسی ٹینڈر کے پرائیویٹ لوگوں کو مزید ٹھیکے پر دے رکھا ھے یہ بھی معلوم ھوا ھے کہ ان ٹھیکیداروں سے سازباز کرکے اس زمین میں ہل چلانے کے لیے سرکاری ٹریکٹر استعمال کیا جاتا ھے۔اس کے علاؤہ تنویر اکبر نامی فارم منیجر نے چکنمبر 220 ج ب میں سے کئی مربع زمین مزید ٹھیکے پر لے رکھی ھے اسکوکاشت کرنے کے لیے سرکاری ٹریکٹر۔سرکاری ڈیزل کابےدریغ استعمال کیا جاتا ھے ۔جس کے باعث ایگریکلچر ریسرچ زراعت کے شعبہ کی (سالانہ آمدنی کم اور خرچ کئی گنا زیادہ کرکے خزانہ سرکار کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا جاتا ہے)۔ذرائع کے مطابق اسی شعبے میں غلام جعفر نامی بیلدار ہے جو کاغذوں کی حدتک نوکری کرتا ہے اورہرماہ کی تنخواہیں خزانہ سرکار سے بٹورتاہے۔جبکہ اپنے ذاتی گھریلو کام کاج کرتاہے اور اس کی تنخواہ میں سےفارم منیجر معقول حصہ وصول کرکے اس کی مکمل سرپرستی کرتاہےرجسٹرحاضری میں اس کی بوگس حاضریاں فارم منیجر ہی لگاتا ہے۔اس جعفر نامی بیلدار کاایک بیٹا جس کانام نعیم بتایا گیا ہے یہ بھی اس ایگریکلچر ریسرچ زراعت میں بیلدارہے۔جو فارم منیجر کے ذاتی ملازم کے طور پر ہے جبکہ یہ بھی تنخواہیں خزانہ سرکار سے وصول کرتاہے اور کام اپنے باس تنویر اکبر کے گھریلو کرتا ہے۔ اس بیلدار کو اپنے ٹھیکے کی زمین جو چک نمبر 220 ج ب فیصل آباد روڈ پر واقع ہے تمام زمہ داری اس کوسونپ رکھی ہے۔ اس بیلدار پر سرکاری کوارٹر کے قیمتی گارڈرز 3 عدد اور دیگر قیمتی ملبہ چوری کرنے کا بھی الزام سامنے آیا ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ جورقبہ ایگریکلچر ریسرچ زراعت سے ضلع کچہری کو ٹرانسفر کر دیا گیا ہے اس رقبہ پر کھڑے سرسبزسرکاری درختوں ازقسم شیشم کابغیرکسی ٹینڈر کے قتل عام کرکے ڈکارمارجانےمیں بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔اس حوالے سے تنویر اکبر فارم منیجر سے موقف پوچھنے پر انہوں نے واضح کہاکہ یہ سب معاملہ محکمہ کا ہے اور ہمیں ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ زراعت نے ہمیں کسی قسم کے موقف دینے سے منع کیا ہوا ہے ان سے ہی موقف پوچھیں جس پر ڈائریکٹر ایگریکلچر ریسرچ زراعت سے موقف پوچھنے کی کوشش کی مگررابطہ نہ ہو سکا۔اس لوٹ گھسوٹ کرپشن کی حیرت انگیز کہانی پر عوامی وسماجی حلقوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں