30

نوری بمقابلہ ناری تحریر:-عزیزخان ایڈوکیٹ لاھور

نوری بمقابلہ ناری
تحریر:-عزیزخان ایڈوکیٹ لاھور

فیصل آباد کے ایک انسپکٹر ایس ایچ او کے خلاف سی پی او فیصل آباد نے حوالات تھانہ میں ایک منشیات فروش ملزم کی ہلاکت پر نہ صرف قتل کا مقدمہ درج کیا بلکہ باریش پولیس انسپکٹر کو حوالات تھانہ میں بند کروایا اُسکی تصویر بنائی اور سوشل میڈیا پر وائرل کروا دی جبکہ مرنے والے ملزم کے جسم پر نہ تو تشدد کے نشانات تھے اور نہ ہی مرنے کی کوئی اور وجہ ظاہر تھی انسپکٹر کا قصور صرف رینکر (ناری) ہونا تھا حالانکہ متوفی کے ورثا نے پہلے دن ہی بیان دے دیا تھا کہ مرنے والا نشہ کرنے کا عادی تھا اور اُسکی موت پر وہ پولیس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کروانا چاہتے ہیں مگر سی پی او کا میڈیا اور حکمرانوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا جس کی بھینٹ انسپکٹر کو چڑھا دیا گیا یہ اور بات ہے کہ انسپکٹر کی دوسرے دن ضمانت ھوگئی انسپکٹر حوالات میں گیا اُسکی بے عزتی ہوئی تو کیا ہوا شکر ہے سی پی او کی عزت تو بچ گئی ؟؟؟
کُچھ دن قبل میری نظر سے ایک ویڈیو گُزری جس میں ایک نوری باوردی ایس پی کو کرپشن کے مقدمات میں گرفتار ملزم حمزہ شہباز نے اُنگلی دیکھائی اور وارنگ دی خبردار ہمارے کام میں مداخلت نہ کرنا اور وہ نوری ایس پی بھیگی بلی بن گیا یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی ایس پی کی غلطی یہ تھی کہ اُس نے شاہی خاندان کے گرفتار ملزم سے کُچھ لوگوں کو ملنے سے روکنے کی گستاخی کی تھی (آجکل وہ ایس پی ڈی پی او گجرات ہیں )پھر کُچھ عرصہ قبل ایک اور حکمران خاندان کے فرزند علی گیلانی جو سابقہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا ہے نے اپنے مسلحہ گن مینوں کے ساتھ مظفرگڑھ کے ڈی پی او کو اُنگلی کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی دیکھائیں کہ خبردار ہمارے راستے میں نہ آنا اور ڈی پی او جس کے ساتھ کافی پولیس تھی بھیگی بلی بن گئے (آجکل وہ ڈی پی او صاحب آر پی او بہاولپور ہیں )
میں اس بات پہ حیران ہوں کہ یہ وہ نوری قوم ہے جو غریب عوام اور ناری ماتحتوں کے لیے ہلاکو خان اور چنگیز خان سے کم نہیں ہوتے وہ ان شاہی خاندانوں کے سامنے بھیگی بلی کیسے بن جاتے ہیں

پولیس کی ٹرینگ دوران ہمارے پریڈ کے اُستاد ہمیں دوڑے چل کرواتے ہوئے جب سہالہ کالج کا تعارف کروا رہے ہوتے تھے اور ساتھ ساتھ ہمیں بتاتے تھے کہ یہ ہے کالج کی کینٹین ، یہ ہے گھوڑوں کا اصطبل ، یہ ہے اقبال ہوسٹل اور پھر ہمیں دور سے دیکھایا جاتا تھا کہ وہ ہے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ کا گھر جہاں کوئی بھی ٹرینی اور ملازم نہیں جا سکتا اور پھر کہا جاتا کیونکہ “یہ علاقہ آوٹ آف باونڈ “ہے اور اس طرف جانے کی سزا ملازمت سے بر خواستگی کے ساتھ ساتھ سزائے موت بھی ہوسکتی ہے اور ہم تمام ٹرینی ڈر جاتے تھے اور سوچتے تھے کہ یا اللہ یہاں کون سی ایسی نوری مخلوق رہتی ہو گی جہاں صرف جانے کی سزا نوکری سے برخواستگی ہوگی؟
تھوڑا اور آگے بڑھتے تھے تو اچانک ہمیں حُکم ہوتا تھا کہ سب خاموش ہو جائیں ہم ڈر کے مارے خاموش ہو جاتے تو ہمیں بتایا جاتا کہ یہ ہے ساردا میس اور یہ اے ایس پی صاحبان کی رہایش گاہ ہے اور اس طرف آنا بھی منع ہے
(اُن دنوں نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں نہیں ہوتی تھی )

جب ہم پریڈ کر رہے ہوتے تھے اور ہمیں بے عزت کیا جا رہا ہوتا تھا تو پریڈ کے آخری لمحات میں ایک کوسٹر گاڑی آ کر رُکتی تھی جس میں سے اے ایس پی صاحبان باوقار طریقہ سے اترتے تھے ڈرل انسٹریکٹر اُنہں پہلے سلوٹ کرتا تھا بعد میں اُن کی خوشامد کرتے ہوئے دور سے بھی صاف نظر آتا تھا
پریڈ کرتے ہوئے ایک اے ایس پی کا ھاتھ دوسرے اے ایس پی سے نہیں ملتا تھا مگر ڈرل انسٹریکٹر واہ واہ کر رہا ہوتا تھا اور اُس کی اتنی جُرت نہ ہوتی تھی کہ اُنہیں کُچھ کہتا کہ جناب آپ پریڈ درست نہیں کر رہے
ان میں سے اکثر اے ایس پی صاحبان کے قد بُہت چھوٹے تھے اور چھاتی بھی کم لگتی تھی حالانکہ ناعی پولیس ملازمین کے لئیے قد اور چھاتی کا معیار الگ ہوتا ہے مگر ان سب کے لیے الگ معیار تھا اور یہ وہ نوری مخلوق تھی جن کی غلامی ہم ناریوں کو سیکھائی جا رہی تھی اور جو ہم نے پوری سروس کرنی تھی پولیس ٹرینگ میں ہم نے صرف غلامی سیکھی
صاحب کے آگے سے نہیں گزرنا؟؟ صاحب کا ہر جائز ناجائز حکم ماننا ہے ؟؟
صاحب کے سامنے نہیں بولنا ؟؟
صاحب جو بولیں صرف یہی کہنا ہے کہ تعمیل حُکم ہوگی جناب ؟؟؟
ٹرینگ کے بعد جب ضلع میں تعیناتی ہوئی تو پھر بھی اسی طرح ڈرایا جاتا رہا آج صاحب کا اردل روم ہے آج صاحب کی پیشی ہے ، تعمیل حُکم کرنی ہے چاہے جائز ہو یا ناجائیز ہو اور پھر ہم نے وہی کرنا شروع کر دیا جو ہمیں حکم دیا جاتا تھا یعنی تعمیل حکم؟
مجھے آج بھی یاد ہے ٹرینگ کے بعد پولیس لائین بہاولپور میں بڑا کھانا تھا پولیس والے بڑا کھانے کا مطلب سمجھتے ہیں مگر جو دوست نہیں جانتے اُن کے لئیے بس اتنا بتا دیتا ہوں کہ ہمارے بڑے نوری افسران جب ناریوں (ماتحتوں)پر کبھی کبھی خوش ہو جائیں تو سرکاری پیسوں سے کُچھ ملازمین کو کھانا کھلا دیتے ہیں اُس کھانا میں ہاشم بخاری فضل بخاری اور میں بھی موجود تھے جونہی بڑے صاحب کی آمد ہوئی تو وہاں پر موجود ناری مخلوق کو بھی پنڈال میں جانے کا حکم ہوا جب ہم کھانے کے لیے اندر داخل ہوئے تو اندر ایک میز الگ لگائی گئی تھی جس پر صرف نوری افسران نے کھانا کھانا تھا اُس میز پر پڑا کھانا باقی میزوں پر پڑے کھانے سے بلکل مختلف تھا جو باقی ماتحت ملازمین کے لئیے لگایا گیا تھا
نوری افسران کے لیے لگائی گئی میز پر منرل واٹر ، پیپسی سیون اپ کے کین صاف پلیٹیں چھری کانٹے چمچے اور مختلف قسم کے اعلی کھانے کی ڈشیں دیکھ کر لگ رہا تھا کہ یہ میز بڑے صاحبان کے لیے ہے
میں اور ہاشم بخاری بھی خود کو بڑا آفسر سمجھتے ہوئے اسی میز پر جا کر کھڑے ہو حالانکہ کُچھ پُرانے ناری ملازمین ہمیں روکتے رہے کہ اُس میز پر مت جائیں مگر ہم نے اُنکی بات نہیں مانی ابھی میں نے اور ہاشم بخاری نے پلیٹوں کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ میز پر موجود نوری افسران نے ہمیں گھورتی نگاہوں سے دیکھا افسران کی ناگواری کو دیکھتے ہوئے ایک انسپکٹر دوڑتا ہوا آیا اور ہاشم بخاری کو آہستہ سے بولا آپ یہاں کھانا نہیں کھائیں گے یہ میز صرف بڑے صاحبوں کے لئیے ہے ہاشم بخاری نے جواباً کہا ہم بھی آفسر بھرتی ہوئے ہیں تو مجھےاُن انسپکٹر صاحب کی وہ طنزیہ مسکراہٹ آج بھی یاد ہے جیسے کہہ رہا ہو ” یہ مُنہ اور مسور کی دال” میں نے اپنی اتنی عزت افزائی کو غنیمت جانا پلیٹ کو میز پر رکھا اور پنڈال سے باہر آگیا ہاشم بخاری بھی میرے ساتھ باہر آگیا اور ہم دونوں نے کھانا نہیں کھایا یہ وہ پہلی تذلیل تھی جو ضلع میں ہوئی اور یہ بات بھی اچھی طرح ہماری سمجھ میں آگئی کہ ہم ناری ہیں
ماہانہ کرائم میٹنگ میں بھی یہی سلوک صاف نظر آتا تھا جب ڈی پی او اور اے ایس پی کے سامنے چائے باوری اردلی بڑے سلیقے سے رکھتا تھا منرل واٹر کی بوتل اور اُس کے ساتھ گلاس رکھ کر جاتا تھا جبکہ ڈی ایس پی سمیت باقی انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز ایس ایچ او کو چائے عام پیالیوں میں دی جاتی تھی اسی طرح عقم سٹیل والے جگوں میں پانی لایا جاتا اور سٹیل کے گلاسوں میں پلایا جاتا تھا
ڈی ایس پی بننے کے بعد یہ احساس اُس وقت شدید ہو گیا جب 2010 میں مجھے جڑانوالہ سے صرف اس لئیے تبدیل کر کے اے ایس پی کو لگا دیا گیا کہ وہ اچھا سرکل تھا رہائش اچھی تھی دفتر اچھا تھا مجھ سے ایک دفعہ بھی نہیں پوچھا گیا اور نہ بتایا گیا کہ میرا قصور کیا ہے میرا تبادلہ کیوں کیا گیا کیونکہ میں ناری تھا؟(یہاں یہ بات ذہین میں رکھیں کہ Asp صاحبان کی تعیناتی کرتے ہوئے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے کہاں پوسٹنگ کروانی ہے اسی طرح کے چند مخصوص سرکلز ہیں جہاں اے ایس پی صاحبان کو تعینات کیا جاتا ہے)

اپنی ایمانداری کا ڈھنڈورا پیٹے والے سکیل سترہ کے ایک اے ایس پی کی تنخواہ تین چار سال قبل تقریباً پچپن ہزار روپے ہوا کرتی تھی اور اٹھارا سکیل کے ایس پی کی تقریباً پچھتر ہزار روپے تھی جس میں اب معقول اضافہ کر دیا گیا ہے مگر مہنگائی کے اس دور میں اس تنخواہ سے گزارہ کرنا بہت مشکل ہے ہر نوری افسر کے ہاتھ میں آپ کو آئی فون کا نیا ماڈل نظر آئے گا اگر یہ ایماندار ہیں تو ان کے یہ اخرجات کہاں سے پورے ہوتے ہیں کروڑوں روپے کے فنڈز ان کے اختیار میں ہوتے ہیں ان کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا نہ کسی کی پوچھنے کی جرت ہے بس ثابت یہ کیا جاتا ہے کہ صرف رینکرز ایس ایچ او اور ڈی ایس پی انسپکٹرز اور ان سے نچلے عہدہ دار ہی کرپٹ ہوتے ہیں اُنکی اس بات میں بھی سچائی ہے مگر کیا رینکرز پولیس ملازمین ہی کرپٹ ہیں اور یہ ناری دودھ کے دھُلے ہیں
کُچھ عرصہ قبل عمران خان کے دور حکومت میں جب پولیس ریفارمز کرنے کی کوشش کی گئی اور Dpo کو Dc کے ماتحت کرنے کی بات ہوئی تو محکمہ پولیس کی اس نوری مخلوق نے حکومت کو استعیفیٰ دینے کی دھمکیاں دیں اور حکومت نے بے بس ہو کر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیے لیکن اگر یہی کام ناری رینکرز ماتحت کرنے کی ہمت کرتے تو جوتے کھاتے اور نوکری سے بھی جاتے ؟

کرپشن کرنے کے باوجود ایک SHO یا Dsp ایک پوسٹنگ کے بعد اپنا گھر نہیں بنا سکتا مگر ایک Dpo ایک پوسٹنگ کے بعد ڈیفنس لاہور میں اپنا گھر ضرور بنا لیتا ہے اور ریٹائرمنٹ پر ان کے کراچی لاہور اسلام آباد میں بنگلے پیٹرول پمپ ہوتے ہیں ان کے بچے غیرمُلکی مہنگی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں تو کسی بھی ضلع کے Dpo آفس کے اکاونٹنٹ کو پکڑ لیں تو وہ سب کُچھ بتا دے گا اب ان اکاونٹینٹ حضرات کی بھی سُن لیں یہ اکاونٹنٹ ایک ہی ضلع میں اپنی ملازمت مکمل کرتے ہیں اور وہیں سے ہی ریٹائر ہوتے ہیں اور ان کی بھی کروڑوں کی جائیدادیں ہوتی ہیں

یہی حال لاہور CPO کا ہے یہاں کا کلرک مافیا جو ان افسران کی کرپشن میں مدد گار ہے ان کا تبادلہ بھی کہیں نہیں ہوتا سالوں سے یہ مافیا Cpo پر قابض ہے اور یہ کماو پوت ان افسران کی آنکھوں کا تارا ہیں
ویسے تو اب ہر روز پولیس عوام اور سیاستدانوں سے جوتے کھاتی نظر آتی ہے لیکن وہ سب ماتحت پولیس ملازمین ہوتے ہیں مگر جب خود کو نوری سمجھنے والے یہ افسران اس طرح اپنی نوکری بچانے کے لیے بُزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ سوال ضرور اُٹھتا ہے اگر ماتحت ملازم کو بُزدلی کرنے پر سزا ملتی ہے تو اس نوری کلاس کو بزدلی کرنے پر سزا کیوں نہیں ملتی؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں