68

رانا شہباز احمد خان چھپے رستم ماڈل تحصیل اور عابد باکسر تحریر علی امجد چوہدری

رانا شہباز احمد خان چھپے رستم ماڈل تحصیل اور عابد باکسر
تحریر علی امجد چوہدری
ماڈل ٹاؤن لاہور میں مشہور زمانہ انکاؤنٹر اسپشلسٹ عابد باکسر کی رہائش گاہ پر عشائیہ میں ناچیز کے علاؤہ تین اور شخصیات بھی شامل تھیں ان میں سے ایک معروف بیورو کریٹ بھی تھے ڈنر کے بعد چائے کی چسکیوں کا دور تھا اور سیاسی صورتحال موضوع بحث عابد باکسر سمیت تمام شرکاء سب ہی اسی موضوع پر interestedتھے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر فوکس زیادہ تھا دوران گفتگو ایک شریک محفل جو پاکستان کے نامور صحافی ہیں اور مسلم لیگ ن کے حلقوں کے بہت زیادہ قریب تصور کیئے جاتے ہیں نے ازراہ تمسخر ماڈل تحصیلوں کا ذکر کیا ان کا خیال تھا کہ یہ ماڈل تحصیلوں کا تصور جغرافیائی طور پر ناقابل عمل تھا اور اسے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے محض point scoring کے طور پر show کیا ہے محفل میں موجود پنجاب کے یہ اہم بیورو کریٹ آداب محفل کے خلاف اس سینئر صحافی سے مخاطب ہوتے ہوئے جزوی حد تک جارحانہ انداز میں تھے انہوں نے اس دور کا واقعہ بھی سنایا جب ماڈل تحصیلوں کی منظوری ھو رہی تھی اور ان مجوزہ تحصیلوں کے نام suggestions کے طور پر بھیجے جا رہے تھے اس وقت پنجاب کے طاقتور پس منظر رکھنے والے پارلیمنٹیرینز اپنی بھرپور طاقت کا استعمال کر رہے تھے مضبوط پس منظر رکھنے والے تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز اور اراکین صوبائی اسمبلی کے بیچ اس وقت کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار انتہائی دباؤ میں تھے اسی دباؤ میں اس بیورو کریٹ کے بقول جھنگ کے ایک رانا تھے جو ایم پی اے تھے یہ ناقابل یقین حد تک بے چین تھے یہ اس وقت سیون کلب روڈ اور ایٹ کلب روڈ میں ہی دکھائی دیتے تھے ایک دن میرا ان رانا صاحب سے جو شاید دربار حضرت باہو سے منتخب ہوئے تھے آمنا سامنا ہوا تو انہیں انتہائی متفکر پایا میرا خیال تھا کہ کوئی زاتی مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا اسی وجہ سے بے چین ہیں تاہم تھوڑی دیر کی رفاقت کے بعد جب قدرت بے تکلفی بڑھی تو پتہ چلا کہ وہ رانا صاحب جن کا نام شاید شہباز خان تھا بے چین تھے کہ ان کی تحصیل بھی تمام سہولیات سے محروم ہے اور اگر یہ ماڈل تحصیل کی مجوزہ فہرست میں شامل ہو گئی تو ان کے لوگوں کی محرومیاں ختم ہو جائیں گیں محفل کچھ دیر بعد برخواست ہوئی ناچیز نے بھی عابد باکسر سے اجازت لی اور اپنی رہائش گاہ پہنچا اس گفتگو کی یاد بھی بہت ساری دیگر یادوں کی طرح ماضی میں چلی گئی تاہم گزشتہ سے پیوستہ روز جب ماڈل تحصیلوں اور ان کے فنڈز کے اجراء کے حوالے سے خبر دیکھی تو مجھے وہی عابد باکسر کی رہائش گاہ یاد آ گئی اور اس بیورو کریٹ کے الفاظ بھی مجھے بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ ماڈل تحصیل جس پر ناجانے پنجاب کے کتنے طاقتور خاندانوں کی نظریں ہونگیں جھنگ کا ایک نوجوان سیاستدان لے آیا جس سے پانچ ارب اس تحصیل کو ملیں گے مگر ان پانچ ارب لانے کے لیئے رانا شہباز احمد خان کو کتنے جتن کرنے پڑے ہونگے اس کا اندازہ تو عابد باکسر کی رہائش گاہ پر ہونے والی گفتگو سے ہو گیا تھا تاہم تحصیل کے باسیوں کو بھی سب یقین ہوگیا ہے کہ تحصیل احمد پور سیال کی محرومیاں اب ختم ہونے جارہی ہیں
ویل ڈن رانا شہباز احمد خان

علی امجد چوہدری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں