35

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کیلئے الگ ملک کا تصور پیش کیا۔عشقِ رسول ﷺ کا اظہار کلام اقبال کا مرکزی موضوع ہے ۔ خالق داد گاڑا

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کیلئے الگ ملک کا تصور پیش کیا۔عشقِ رسول ﷺ کا اظہار کلام اقبال کا مرکزی موضوع ہے ۔ خالق داد گاڑا
جھنگ (جاوید اعوان سے) شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رح نے برصغیر کے مسلمانوں میں اپنی شاعری کے ذریعے نئی روح پھونکی اور ان کو خواب غفلت سے جگایا ۔ انہوں نے الگ ملک کا تصور پیش کیا جہاں مسلمان مذہبی آزادی کے زریعے زندگی گزار سکیں ۔ طلباء و طالبات ان کی شاعری میں دیئے گئے پیغام کو سمجھیں ۔ ان خیالات کا اظہار چیف آفیسر ضلع کونسل خالق داد گاڑا نے ضلع کونسل جناح حال میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رح کے حوالے سے منعقد کی گئی تقریب میں مختلف سکولوں کے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں ڈپٹی ڈی او چوہدری محمد رمضان ، حافظ محمد اعظم صدیقی ، چیئرمین جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک علی رحمان انصاری و دیگر اساتذہ نے شرکت کی ۔ خالق داد گاڑا نے کہا کہ علامہ اقبال کو نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے گہری وابستگی تھی ۔ اقبال اپنی شاعری میں نبیِ آخرالزمان ﷺ کو متعدد اسما سے پکارتے ہیں اور اُن سے اپنی قلبی محبت و موانست کا اظہار کرتے ہیں۔ ان اسمائے مبارک میں دانائے سبل، ختم الرسل ، مولائے کل، یٰس، طہٰ، رسالت مآبؐ، رسالتؐ پناہ، رسولِ مختارؐ، رسولِؐ پاک، رسولِؐ عربی، رسولؐ ہاشمی، سرورِؐ عالم، شہنشاہِؐ معظم، میرؐ عرب اور کملیؐ والے جیسے تعظیمی القابات شامل ہیں جن کی وساطت اقبال بارگاہ رسول ﷺ میں اُس اُمت کے مسائل پیش کرتے ہیں جسے ’’اُمتِ احمد مرسل‘‘ اور ’’ملتِ ختمِ رُسل‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ اقبال اپنے ملی تصور کو بھی جذبۂ عشقِ رسول ﷺ سے تقویت دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں