50

جڑانوالہ*( رانا محمد لطیف بیورو چیف)*7ستمبر 1974ء پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم تاریخی دن تھا جس روز آئین میں عقیدہ ختم نبوتﷺ کو اس کی مکمل روح کے مطابق نافذکردیا گیا اورساتھ ساتھ حضورﷺ کو آخری نبی ماننے والے کو ہی صرف مسلمان تصور کئے جانے کا قانون متفقہ طور پر منظور ہوا جس کا سہرہ اس وقت کی مذہبی قیادت اہل حدیث کے سر ھے

*جڑانوالہ*( رانا محمد لطیف بیورو چیف)*7ستمبر 1974ء پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم تاریخی دن تھا جس روز آئین میں عقیدہ ختم نبوتﷺ کو اس کی مکمل روح کے مطابق نافذکردیا گیا اورساتھ ساتھ حضورﷺ کو آخری نبی ماننے والے کو ہی صرف مسلمان تصور کئے جانے کا قانون متفقہ طور پر منظور ہوا جس کا سہرہ اس وقت کی مذہبی قیادت اہل حدیث کے سر ھے ۔ان خیالات کا اظہارمولاناقاری خلیل احمد نے مرکز القدوس اہل حدیث غلہ منڈی میں دفاع پاکستان ختم نبوت سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا کہ ملکی تاریخ کی قانون سازی میں سب سے اہم اور تاریخی کارنامہ ہوا۔ مسلمان ہونے کے لئے اللہ کو ایک ماننا اور حضورﷺ کو آخری نبی ماننا ضروری ہے اس کے علاوہ کوئی بھی دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا اور یہی ہمارے وطن عزیز کے قانون میں بھی درج ہے۔ اس قانون کی منظوری سے قادیانی غیر مسلم قرار پائے سات ستمبر بھی ملک کی تاریخ کا اہم ترین بلکہ عظیم ترین دن ہے،یہ دن صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے،اس سے حضور ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ ہوا۔اس دن آنحضرتﷺ کی عزت وناموس کا جھنڈابلند ہوا۔ اس دن آپ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ذلیل و رسوا ہوئے،حضور اکرم ﷺ کے تاج ختم نبوت کو چھیننے والے خائب و خاسر ہوئے،اس دن پاکستان کی پارلیمنٹ اور پوری قوم نے مل کر مرزا ئی اور قادیانیوں کو جسد ملت اسلامیہ سے کاٹ کر علیحدہ کردیا اور انہیں آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیدیا گیا، اس پر صرف پوری پاکستانی قوم نے ہی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ نے سجدہ شکر ادا کیا،کیوں کہ قادیانیت کے تعفن اور اس کی سڑھاند نے پوری امت مسلم کو بے چین اور مضطرب کیا ہوا تھا۔ ان سے بچنے،خصوصاً نسل نو کو اِن سے بچانے اور محفوظ رکھنے کی تدابیر سوچی جاتیں اور اس کے مطابق عملی اقدامات کئے جاتے، زندہ قومیں اس طرح کے تاریخ ساز اور تابناک ایام و لمحات کو نہ صرف یاد رکھتی ہیں، بلکہ زندہ بھی رکھتی ہیں،مگر یہ دن آتا ہے اور گز ر جاتا ہے کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کتنا اہم اور عظیم دن گزرگیا اور ہم سے مطالبہ کرگیا۔ یہ ہماری اجتماعی اور قومی بے حسی کی علامت ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں