69

جھنگ پولیس نے 5 اندھے قتلوں کا سراغ لگا لیا، مدعی ہی قاتل نکلے،جائیداد کے لالچ میں قتل کئے*ملزمان اختر عباس و اصغر نے اپنے والدالطاف،سوتیلی والدہ نسرین بی بی،2سوتیلے بھائی منظر علی،سرور اوربہن بسم اللہ کو قتل کیا*ملزمان نے اپنے سوتیلے بھائی منظر علی کو قتل کر کے کھیتوں میں دفن کیا اور الزام عائد کیا کہ منظر علی نے رشتہ کے تنازع پر قتل کئے ہیں*

*جھنگ پولیس نے 5 اندھے قتلوں کا سراغ لگا لیا، مدعی ہی قاتل نکلے،جائیداد کے لالچ میں قتل کئے*ملزمان اختر عباس و اصغر نے اپنے والدالطاف،سوتیلی والدہ نسرین بی بی،2سوتیلے بھائی منظر علی،سرور اوربہن بسم اللہ کو قتل کیا*ملزمان نے اپنے سوتیلے بھائی منظر علی کو قتل کر کے کھیتوں میں دفن کیا اور الزام عائد کیا کہ منظر علی نے رشتہ کے تنازع پر قتل کئے ہیں*
جھنگ (محمد جاوید اعوان ) مورخہ 15 نومبرکی شب ملہوآنہ علاقہ تھانہ صدر جھنگ میں تہرے قتل کا دلخراش اوراندوہناک واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق منظر علی نامی ملزم نے رشتہ کے تنازع پر اپنے والد الطاف حسین بعمر 61 سال، والدہ نسرین بی بی بعمر 55 سال،ہمشیرہ بسم اللہ بعمر 13 سال کو کلہاڑیوں کے وار کر کے قتل کیا اور فرار ہو گیا ہے۔ واقعہ کا مقدمہ ملزم منظر علی کے خلاف اسکے سوتیلے بھائی اختر عباس کی مدعیت میں درج کیا گیا۔واقعہ کی تحقیقات اور ملزم کی گرفتاری کیلئے DPO جھنگ حسن اسد علوی نےDSPسٹی سرکل سیف اللہ بھٹی کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی۔SHO تھانہ صدر جھنگ فیصل رزاق اور انکی ٹیم نے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا،جدید ٹیکنالوجی اور تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے یہ سراغ لگایا کہ تہرے قتل کے مقدمہ کا مدعی اختر عباس اوراسکا بھائی اصغرعلی ہی اصل قاتل ہیں۔میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے ڈی پی او جھنگ حسن اسد علوی کا کہنا تھا کہ ملزمان اختر عباس و اصغر علی کوگرفتار کیا گیاہے، ملزمان نے اعتراف کیا کہ دیگر ملزمان عباس واقبال کے ساتھ مل کر اپنے سگے والد، سوتیلی والدہ،سوتیلی بہن اور سوتیلے بھائی منظر علی کو قتل کرکے منظر علی کی نعش کھیتوں میں دبا دی اورالزام عائد کیا کہ منظر علی رشتہ کے تنازع پر قتل کر کے فرار ہو گیا ہے،ملزمان کی نشاندہی پرمقتو ل منظر علی کی لاش بھی کھیتوں سے برآمد کر لی گئی ہے جبکہ دیگر ملزمان عباس و اقبال کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ڈی پی او جھنگ کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان اختر عباس و اصغر سے مزید انٹیروگیشن پر یہ باے سامنے آئی کہ جنوری 2016 میں ملزمان نے اپنے سوتیلے بھائی سرور علی کو بھی دیگر ملزما ن رمضان، شاہد،اقبال کو 1 لاکھ روپے دیکر گلا دبا کر قتل کروایا، جسکا ملزمان نے اعتراف کیا ہے وجہ عناد یہ کہ الزام علیہان اختر عباس و اصغرکی والدہ مسماۃ نسیم بی بی کی وفات کے بعد انکے والد الطاف حسین نے اپنی سالی مسماۃ نسرین بی بی سے عرصہ 25/26 سال قبل شادی کر لی جس سے4 بیٹے اور 1 بیٹی بسم اللہ پیدا ہوئی۔ملزمان اختر عباس و اصغرکو رنج تھا کہ انکے والد کی جائیداد کے حقدارانکے سوتیلے بھائی بھی ہیں۔تمام جائیداد ہتھیانے کے لالچ میں ملزمان اختر عباس و اصغر نے مورخہ15 نومبر کی رات کلہاڑیوں و ٹوکے کے وار کر کے والد، والدہ، بہن اور بھائی منظر عباس کو قتل کر دیا اورمنصوبے کے تحت منظر علی کی لاش کھیتوں میں دفن کر کے قتل کا الزام مقتول منظر عباس پر لگایا اور ملزم اختر عباس خود مدعی بن گیا۔ڈی پی او جھنگ حسن اسد علوی نے تفتیشی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے تعریفی سرٹیفکیٹ اور انعامات کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں