70

یوم سیاہ…. 16 دسمبر پاکستان کا سیاہ دن جس دن پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ محترمہ فرزانہ بلوچ

یوم سیاہ…. 16 دسمبر پاکستان کا سیاہ دن جس دن پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔
محترمہ فرزانہ بلوچ
جھنگ ( محمد جاوید اعوان )
چیئرپرسن تحریم ویلفیئر آرگنائزیشن و امیدوار برائے ایم پی اے ( پی پی 126 پی پی 127 جھنگ ) محترمہ فرزانہ بلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 16 دسمبر کا دن اہل پاکستان کے لئے یوم سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ 16 دسمبر 1971 کو سقوطِ ڈھاکہ کی صورت میں اور 16 دسمبر 2014 کو سانحہ اے پی ایس پشاور کی صورت میں، پاکستان کو دو ایسے نقصانات اٹھانا پڑے جن کا ازالہ ناممکن ہے۔16 دسمبر 1971 وہ دن تھا کہ جب میرا وطن، اپنوں کی غداریوں، انا پرستیوں اور مفاد پرستیوں کی بھینٹ چڑھتا ہوا دو لخت ہو گیا تھا، غیروں کے رویے کا نوحہ نہیں کیونکہ دشمنی نبھانا ان کا حق ہے، جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا. غدار ایک خاص کلچر میں جنم لیتے ہیں، جب فرد کے مفاد اور ریاست کے مفاد میں جنگ ہو جائے، تو غدار جنم لیتے ہیں. آج ایک بار پھر یہ صورت حال ہے کہ کبھی پاکستان کے کسی کونے سے سندھو دیش کی آوازیں آتی ہیں تو کبھی کسی کونے سے بلوچستان توڑنے کی صدا گونجتی ہے. اب اگر ان لوگوں کو روکنا ہے اور دوسرا بنگلہ دیش نہیں بننے دینا، پاکستان کو ایک بار پھر ٹوٹنے سے بچانا ہے تو ان آستینوں کے سانپوں کو پہچاننا ہوگا. اب خاص طور پر عام عوام کو اپنی آنکھیں، کان اور دماغ کھلا رکھنا ہو گا. اب ان لوگوں کے پیچھے نعرے نہیں لگانے. اپنے ضمیر اور اپنے ملک کا سودا نہیں کرنا. یاد رکھئے گا جب جب عوام اپنے ضمیر کا سودا کرتی ہے تب تب حکمران اس ملک کے نظریے کا سودا کرتے ہیں.
فرزانہ بلوچ کا 16 دسمبر کے حوالے سے مزید کہنا ہے کہ 16 دسمبر یہ وہ دن تھا کہ جب خیبر پختون خواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے ایک سکول، آرمی پبلک سکول، میں دہشت گردوں نے ننھے پھولوں کو خون میں نہلا دیا. ننھے پھولوں کو گولیوں اور بارود سے مسل دیا. جن معصوم بچوں کو ماؤں نے صبح اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے، ماتھا چوم کر، دعاؤں کے گلدستے کے ساتھ سکول کے لئے رخصت کیا، جب معصوم لاشیں، خون میں لت پت، گھر واپس آئیں تو ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے. یہ وہ دن تھا کہ جب مائیں انتظار کرتی رہیں اور بچے سکول سے سیدھا جنت چلے گئے. آج اس المناک سانحے کو بھی سات سال گزر چکے ہیں. یہ سات سال ان ماؤں نے کیسے گزارے ہیں، یہ وہی جانتی ہیں. ایک ماں کا انٹرویو سننے کو ملا، اس نے کہا کہ؛ اتنے سال گزرنے کے بعد، آج بھی میری نگاہیں میرے بچے کی منتظر ہیں.
ان معصوموں کے قاتل پکڑے تو گئے ہیں مگر بدبختی یہ ہے کہ آج انہیں مختلف قسم کی رعاتیں دینے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں. اے حاکم وقت! میں یہ نہیں کہتی کہ انہیں رعاتیں نہ دو مگر دینے سے پہلے، ان معصوم شہدا کے والدین سے مل ضرور لینا. جس کلبھوشن یادیو کو تم رعایتیں دینے کی بات کرتے ہو، ان والدین سمیت پوری قوم اسے پھانسی کے پھندے پر دیکھنا چاہتی ہے اس سے شاید ان والدین کو قرار آ جائے جن کا سب کچھ لٹ گیا تھا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں