51

جھنگ (محمد جاوید اعوان) جھنگ میں یوریا کھاد شدت اختیار کر گیا کسانوں کو غلہ منڈی میں چند کرسیاں رکھ کر اور ایک ٹینٹ لگا کر سنٹر فوٹو سیشن کی حد تک محدود سخت گرمی میں حبس میں پورا دن بٹھا کر دو دو گٹو دیکر افسران کو اوکے کی رپورٹ دے ریے ہیں

جھنگ (محمد جاوید اقبال) جھنگ میں یوریا کھاد شدت اختیار کر گیا کسانوں کو غلہ منڈی میں چند کرسیاں رکھ کر اور ایک ٹینٹ لگا کر سنٹر فوٹو سیشن کی حد تک محدود سخت گرمی میں حبس میں پورا دن بٹھا کر دو دو گٹو دیکر افسران کو اوکے کی رپورٹ دے ریے ہیں جبکہ ضلع بھر میں انتظامی افسران اور محکمہ زراعت کے کرپٹ افسران روزانہ کی بنیاد پر من پسند آفراد کو بذریعہ موبائل یکمشت سو سو اور پچاس پچاس گٹو دے رہے ہیں محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور زراعت انسپکڑ سمیت سب مقامی ہیں اور خود بھی کھاد کا وسیع پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں سب ڈیلرز ایک ایسی کریشن ہے جو انتظامی افسران کو بھی سمجھ نہیں آتی اور محکمہ زراعت اس پر روزانہ لاکھوں کی دیہاڑی لگا رہا ہے محکمہ زراعت میں سب ڈیلرز بنا کر مخلتف دیہاتوں میں یہ کہہ کر کھاد کو بجھوا جاتا یے کہ سب ڈیلرز کے ذریعے کھاد کسانوں کو دی جاتی ہے لیکن حقیقت میں وہ فروخت ہو رہی ھے سب خانہ پری ہے غلہ منڈی جھنگ میں بنا سنٹر صرف ایک دکھاوا یے جس کا ثبوت یہ ہے کہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں کھاد آتی ہے جب کھاد کا کوٹہ جھنگ کے لیے نکلتا ہے تو انتظامیہ زراعت آفیسر کے پاس فگر آجاتی ھے کہ فلاں ڈیلر کا اتنا مال نکل آیا یے اب جو میرٹ یہ ہے جو غلہ منڈی میں جو سنٹر بنا ہے جہاں ہر کسانوں کے ساتھ ڈرامہ بازی ہو رہی ہے دو دو گٹو دیے جاتے ہیں اور روزانہ سنٹر سے زیادہ سے زیادہ سات آٹھ سو یا ہزار گٹو کسانوں کو دیے جاتے ہیں جبکہ جو اعلی افسران کو رپورٹ دی جاتی ہے وہ اس سے کئی گنا زیادہ سیل کی رپورٹ جاتی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سنٹر پر کھاد دی جاتی ہے اصولا کوٹہ سے وہی کاٹا جائے کہ آج سنٹر سے اتنا یوریا دیا لیکن سنڑ پر صرف سات آٹھ سو باقی ہزاروں کی تعداد لکھی جاتی یے یہی کرپشن ہے کہ وہ یوریا کہاں کس کی سفارش سے جا رہا ہے جس پر نوٹس لینے کی اپیل چیف سیکرٹری پنجاب کمشنر فیصل آباد ڈی سی جھنگ جھنگ میں کھاد کی آڑ میں ہونے والی روزانہ لاکھوں روپے کی کرپشن اور من پسند افراد کو کھاد دینے کا نوٹس لیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں