147

*پاسبان مملکت خداداد کا حلف وفا* *تحریر مہر محمد شریف* *ضلعی نائب صدر/ میڈیا ایڈوائزر پنجاب ٹیچرز یونین ڈسٹرکٹ جھنگ*

*پاسبان مملکت خداداد کا حلف وفا*
*تحریر مہر محمد شریف*
*ضلعی نائب صدر/ میڈیا ایڈوائزر پنجاب ٹیچرز یونین ڈسٹرکٹ جھنگ*

زمانے کی حسین ساعتوں میں سے کچھ ساعتیں ایسی ہوتی ہیں جو کاروان قوم کا رخ موڑ دیتی ہیں اور اپنے طور پر وقت اور زمانے کی گردش کو روک کر ایسے ا مر کر دیتی ہیں ایسا ہی ایک دن اور حسین ساعت 23 مارچ 1940 ہے جب مسلمانان ہند کی نے تحریک پاکستان کی پر پیچ مسافت طے کرتے ہوئے اپنے محبوب قائد کی قیادت میں ایک مینار پاکستان کے پروقار تاریخی مقام پر متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی اور اپنی منزل مقصود کا تعین کیا جسے عرف عام میں ہم قرارداد پاکستان کہتے ہیں اج کے
مقدس دن ایک عظیم اسلامی مملکت کے طور پر حصول کے لیے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی یہ قرارداد کیا تھی یہ یہ قرارداد ہندوؤں اور انگریزوں کے سینوں میں خنجر کی مانند لگی یہ قرار داد مسلمانوں کے دلوں کے تار چھیڑے ہوئے جانفزا نغمے کی مانند مشہور ہو گئی اس میں 10 کروڑ مسلمانوں کے کے دلوں کی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں اج کے دن ہماری بہار و زیست کا وہ سنگ بنیاد رکھا گیا تھا جس کی تہ میں 10 کروڑ مسلمانوں کی امنگیں اور ارزوئیں انگڑائیاں لے کر بیدار ہو رہی تھیں اور ازادی سے ہمکنار ہونے کے لیے قوم کے سارے جذبات ایک قوت قاہرہ صورت میں میں نمودار ہونے تھے اور اج حضرت قائد قائد اعظم رحمت اللہ علیہ کی قیادت میں ملت اسلامیہ نے یکسو ہو کر اپنا قبلہ مقصود متعین کیا تھا اور اج اس کا نام پاکستان رکھا گیا تھا قرارداد پاکستان جس میں ہماری زندگی کا شباب ہماری، ازادی کا طوفان ہمارے دلوں کے سارے ارمان اور ہمارے عشق کے چرچے ماضی مرحوم کی روایات ہمارے حال کی کہانی اور مستقبل کی درخشانی جلوہ گر تھی اج کے دن منظور ہونے منظور ہوئی تھی اس دن انگریز کے منہ پر وہ تھپڑ رسید کیا گیا جس کی اواز سات سمندر پار سنی گئی ہندوؤں کی شاطرانہ چالوں کے سر پہ وہ جوتے رسید کیے گئے جس جس کی تیسیں وہ اج تک محسوس کر رہا ہے اج کے دن ہم نے وہ نعرہ توحید بلند کیا جس سے صنم خانے لرز گئے اور گرجوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی جو کسی صلاح الدین ایوبی کی امد کا پتہ دے رہی تھیں اج کے دن ہم نے سومنات کی عظمت کے چراغ گل کر کے ناموس محمد کی قندیلیں روشن کرنے کا عہد باندھ تھا اج کے دن ہم نے قران میں دستور جاری کرنے اور زندگی کو اس کے مطابق گزارنے کا اعلان کیا تھا جو ہمارے اقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی تھی اور ساری دنیا کو گواہ بنا کر پوری قوم کو اس نصب العین کی دعوت دی تھی اج کے دن اس کے افکار سے نمود کی سنگ و خشت سے ہ پیدا ہوئے اج کے دن ہم نے اتحاد و اتفاق کو کا وہ پیمان باندھا تھا جو قرون اولی کے مسلمانوں کا طر امتیاز تھا
جس دن امت مسلمہ کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنایا تھا فرقہ پرستی کے بتوں کو پاش پاش کر کے رنگ و خوں کے غبار کو کو امت مسلمہ کے رخ روشن سے دھو ڈالا تھا وحدت و الہ وحدت قوم اور وحدت نصب العین کا دور دورہ تھا عظیم الشان مظاہرہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بالاخر پاکستان کاخطہ بے نظیر ہماری جھولی میں ڈالا گیا حکمت و دانائی اقبال کا احسان ہے ایک تصور تھا کبھی جو اج پاکستان ہے اج کا دن محض رسمی خوشیاں منانے کا نہیں بلکہ اپنے محاسبے کا دن ہے کہ یہ ہم نے جو وعدے اپنے اللہ اور خلق خدا سے کیے تھے اس پر ہم کس حد تک پورا اترے ہیں قران کے قانون کا یہاں کتنا حصہ نافذ ہوا ہے ازادی کی نعمت سے عوام کے حصے میں کتنی ائی ہے جمہوریت کو کتنا فروغ ملا ہے اس معاشرے سے یہ برائیاں کس قدر ختم ہوئی ہیں اور قومی حیثیت سے ہم دنیا میں کس مقام پر کھڑے ہیں ان باتوں کا جواب دینے کے لیے اج کا دن منایا جا رہا ہے اج کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم پاکستان کی بنیاد جس نظریہ حیات پر رکھی گئی تھی اسی حیات ملی کا دستور العمل بنایا جائے جن کے ارمانوں کی بستی کو اباد کر کے ملک کی تشکیل کی گئی تھی یہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے زندگی کے چمن میں خزاں نے گھس کر جہاں جہاں عاشیا نے بنائے ہیں ان کی دھجیاں فضائے اسمانی میں بکھیر دی جائیں اور برک خاطف بن کر ان عشرت کدوں بھسم
کر دیا جائے جن کی وجہ سے یہاں غریبوں کے خون کے جام بھرے جا رہے ہیں ان سیاسی چوہوں کی بلوں کو گھس کر جو ایوان اقتدار میں گھس کر ملک کی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں مختصر اسلام کے نام پر اس حاصل کیے گئے مملکت میں وہ چیز با باہر کرنی ہے جو غیر اسلامی ہو اس میں مشاطہ بہار کو حکم دیا جائے کہ وہ گلشن کو خش و خشا گ سے پاک
کہ گلوں کی تز ہین
نو کرے اور نرگس کے کی انکھوں کا کاجل لگائے سنبل و ریحان کے گیسو سنوارے گل گلاب کی لطافتوں کو اب کوثر سے دھو ڈالے اور میرے اقا و مولا حضرت محمد مصطفی ض صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شریعت کی ملکہ تخت اقبال پر جلوہ گر ہو کر افیو ض برکات کی بارشیں اہل پاکستان پر خوب برسائے امیدوا امید اثق ہے کہ وہ دن جلد ائے گا جب صحیح معنوں میں اسلام پاکستان اسلامی درسگاہ بن جائے گا اور ہماری دنیا و اخرت اور عاقبت دونوں ہی سر سبز و ساداب ہوں گی امین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں