120

*جھنگ(جاوید اعوان سے)سی ای او ایجوکیشن کی کرپشن بارے وزیر اعلیٰ پنجاب کو درخواست اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)سی ای او ایجوکیشن کی کرپشن بارے وزیر اعلیٰ پنجاب کو درخواست اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ*
*چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کی کرپشن بارے وزیر اعلیٰ پنجاب کو درخواست۔ اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق جھنگ کے شہری ظفر مہدی سکنہ موضع لغاری نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کے خلاف قانونی کاروائی کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو تحریری درخواست دی ھے* *درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ھےکہ بندہ جھنگ پی پی 125 کا رہائشی ہے بندہ نے اس سے پہلے ایک درخواست برخلاف عبدالخالق ایس ایس ٹی گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری سکول کلیرا گزاری تھی جس کی انکوائری تین اے ای اوز ڈپٹی ڈی ای او جھنگ ڈی ای او ایلیمنٹری جھنگ نے کی اور الزامات ثابت ہونے پر اس کے خلاف ایک رپورٹ سی ای او جھنگ کو بھجوائی اس انکوائری رپورٹ کی روشنی میں عبدالخالق ٹیچر کے خلاف پیڈا انکوائری ڈپٹی ڈی ای او شورکوٹ کے سپرد ہوئی اس ڈپٹی ڈی ای او نے بغیر تصدیق 7 لاکھ کے غبن کی ایک فرضی رپورٹ حسب منشا سی ای او اور الزام علیہ عبدالخالق ٹیچر مرتب کی بندہ نے تمام حقائق سی ای او کو بتائے سی ای او نے پھر مجھے خوش کرنے کے لیے یہی انکوائری ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول جھنگ خالد لکھنانہ کے سپرد کر دی خالد لکھنانہ نے بھی فرضی انکوائری کرتے ہوئے جادو کی چھڑی سے 7 لاکھ روپے کی رقم 57 ہزار روپے شو کر کے ریکوری ڈال دی مزید برآں یہ کہ سی ای او ایجوکیشن کا کرپٹ ٹیچر عبدالخالق سے گٹ جوڑ ھے سات ماہ سے این ایس بی اور ایف ٹی ایف کی غبن شدہ رقم 7 لاکھ کا ریکوری نہ کرنا سی ای او پر ایک سوالیہ نشان ہے غبن شدہ رقم کا انکشاف اے ای او ڈپٹی ڈی ای او اور ڈی ای او ایلیمنٹری جھنگ کر چکے ہیں لیکن سی ای او ملزم کے خلاف کاروائی نہیں کرنا چاہتی ہے سی ای او انکوائری انکوائری کا کھیل کھیل رہی ہے چونکہ سی ای او ملزم عبدالخالق کے ساتھ مک مکا کر چکی ہے سکول کونسل عبدالخالق کے خلاف ڈپٹی ڈی ای او اور ڈی ای او ایلیمنٹری کے سامنے اپنے بیان حلفی جمع کروا چکے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عبدالخالق نے ہمارے جعلی دستخط کیے ہیں اور جعلی کونسل بنائی ہوئی ہے لیکن سی ای او گٹھ جوڑ کی وجہ سے خاموش ہے سکول سٹاف بھی اپنا بیان حلفی جمع کروا چکا ہے جس میں انہوں نے اپنے بیان حلفی میں بتایا ہے کہ عبدالخالق ٹیچر نے بل بجلی کے علاوہ کسی جگہ کوئی رقم خرچ نہیں کی ہے اس کے تمام بل بوگس ہیں سی ای او ایجوکیشن بجائے اس ملزم کے خلاف کاروائی کرتی بلکہ اس کو جعلی رجسٹر اور رسیدات بنانے کا موقع فراہم کر رہی ہے بندہ نے ٹرانسپینسی ایکٹ کے تحت رجسٹر این ایس بی اور ارڈر بک کا ریکارڈ بذریعہ درخواست طلب کیا لیکن اٹھ ماہ گزرنے کے بعد بھی ریکارڈ نہ ملا بندہ نے بار بار سی ای او اور ڈی ای او کو درخواستیں گزاری ہیں تاحال ریکارڈ نہ مل سکا ہے سی ای او کے گٹ جوڑ کی وجہ سے مذکورہ ٹیچر کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی ہے 26 دن کی غیر حاضری ماہ ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر 2025 جن کی رپورٹ ہیڈ ماسٹر اے ای او ۔ڈپٹی ڈی ای او۔ ڈی ای او اور سی ای او کو بھیج چکے ہیں تاحال ملزم کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی ہے جبکہ ڈی ای او کی رپورٹ پر ایک فرضی پرسنل ہیرنگ 21 فروری 2026 کو مقرر تھی جس میں سی ای او نے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی ہے بلکہ اس ٹیچر کو جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ لانے کو کہہ دیا مذکورہ ٹیچر کی ڈگری جعلی ہیں ٹیچر کو بچوں کو پڑھا ہی نہیں سکتا یہ ٹیچر پانچویں کے بچوں کو بھی نہیں پڑھا سکتا اس کی پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ڈگری رول نمبر 142 سیریل نمبر 14190 سال 1989 جعلی ہے اس کی تمام ڈگریز کو چک کروایا جانا مناسب ہے مذکورہ ٹیچر نے سکول کی فوٹو سٹیٹ مشین چرا لی ہے متعدد بار سی ای او کو اس بارے بتایا گیا مگر فوٹو سٹیٹ مشین واپس نہ ہوئی ہے لہذا استدعا ھے کہ ان الزامات کی انکوائری کسی ایماندار افسر کے سپرد کی جائے سی ای او اور عبدالخالق ٹیچر اور اس میں ذمہ دار افسران کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی ڈی پی ائی پنجاب لاہور یا سیکرٹری تعلیم سے کروائی جائے اور سرکاری رقم واپس خزانہ سرکار میں جمع کرائی جائے عبدالخالق کی تمام اسناد ڈگریز بورڈ اور یونیورسٹی سے تصدیق کروائی جائیں عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف چیف سیکرٹری پنجاب صوبائی وزیر تعلیم پنجاب صوبائی سیکرٹری تعلیم پنجاب سے اس سلسلے میں اعلی سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں