157

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں صفائی کے ٹھیکے دار پر ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کا الزام، ڈیوٹی روسٹر اور عملی صورتحال میں بڑا تضاد سامنے آگیا*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں صفائی کے ٹھیکے دار پر ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کا الزام، ڈیوٹی روسٹر اور عملی صورتحال میں بڑا تضاد سامنے آگیا*
*ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں صفائی کے ٹھیکے پر مامور کمپنی غلام فرید اینڈ برادرز پرائیویٹ لمیٹڈ پر مبینہ طور پر ایس او پیز کی خلاف ورزیوں اور ملازمین کے استحصال کے سنگین الزامات سامنے آنے لگے ہیں*۔
*ذرائع کے مطابق کمپنی کی جانب سے ہسپتال انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بظاہر ڈیوٹی روسٹر آویزاں کیا گیا ہے، تاہم موقع پر صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے اور روسٹر میں درج متعدد ملازمین اپنی ڈیوٹی کے مقامات پر موجود نہیں ہوتے*۔
*ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی صفائی پر مامور افراد کی بڑی تعداد اکثر اوقات موقع سے غائب پائی جاتی ہے جبکہ چند محدود ملازمین سے طویل اور اضافی اوقات میں ڈیوٹی لی جانے کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں*۔
*اس صورتحال کے باعث صفائی کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور ہسپتال کے مختلف وارڈز میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں*۔
*معلوم ہوا ہے کہ ہسپتال کی صفائی کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر غیر معیاری سینٹری آئٹمز استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ کئی وارڈز میں صفائی کے ضروری سامان کی کمی اور بعض جگہوں پر سامان کے غائب ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں*۔
*ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں کمپنی کے ملازمین بھی اپنے مسائل اور مبینہ زیادتیوں کے خلاف سراپا احتجاج رہے، تاہم اس کے باوجود ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح اور مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی*۔
*مزید یہ کہ بعض شفٹوں میں ڈیوٹی ٹائمنگ ختم ہونے کے باوجود وہی ملازمین مسلسل کام کرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے لیبر قوانین اور انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں*۔
*ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کی ایک مکمل ویڈیو ریکارڈنگ تیار کی گئی ہے جس میں ڈیوٹی روسٹر اور عملی حاضری کے تضاد، صفائی کے ناقص انتظامات، ملازمین کے مسائل اور وارڈز میں سینٹری سامان کی کمی یا غائب ہونے جیسے معاملات کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے*۔
*مذکورہ ویڈیو اور تفصیلات جلد اعلیٰ حکام اور متعلقہ انتظامیہ کو ارسال کیے جانے کا امکان ہے تاکہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جا سکیں*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں