135

*جھنگ(جاوید اعوان سے): “بدتمیز” ڈی او لٹریسی کا تکبر خاک میں مل گیا، بدعنوانی اور بد اخلاقی پر معطل* *​محمد عمران کے دفتر میں ‘قابلِ اعتراض’ لباس اور ماتحتوں کو گالیاں دینے کا شرمناک انکشاف، سیکرٹری لٹریسی کا بڑا ایکشن*

*جھنگ(جاوید اعوان سے): “بدتمیز” ڈی او لٹریسی کا تکبر خاک میں مل گیا، بدعنوانی اور بد اخلاقی پر معطل*
*​محمد عمران کے دفتر میں ‘قابلِ اعتراض’ لباس اور ماتحتوں کو گالیاں دینے کا شرمناک انکشاف، سیکرٹری لٹریسی کا بڑا ایکشن*
*ضلع جھنگ میں محکمہ لٹریسی کے سیاہ و سفید کے مالک بننے والے ڈسٹرکٹ آفیسر (DO) لٹریسی محمد عمران کا “شاہانہ دور” انجام کو پہنچ گیا۔ میڈیا پر بدعنوانی، بدتمیزی اور غیر اخلاقی رویے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد صوبائی سیکرٹری لٹریسی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے موصوف کو فوری طور پر معطل کر کے لاہور رپورٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے*۔
*​سرکاری دفتر یا ذاتی جاگیر؟*
*​تفصیلات کے مطابق محمد عمران نے جب سے جھنگ کا چارج سنبھالا تھا، محکمے کو اپنی “ذاتی جاگیر” سمجھ رکھا تھا. ذرائع کا کہنا ہے کہ موصوف نہ صرف کرپشن کے بازار کو گرم کیے ہوئے تھے بلکہ اپنے ماتحت عملے کے ساتھ انتہائی گھٹیا اور بازاری زبان استعمال کرنا ان کا معمول بن چکا تھا* *حد تو یہ ہے کہ سرکاری دفتر میں، جہاں خواتین اساتذہ کا آنا جانا ہوتا ہے، ڈی او لٹریسی اکثر “قابلِ اعتراض لباس” میں پائے جاتے تھے، جس سے محکمے کا وقار خاک میں مل رہا تھا*
*​قانون اور اخلاقیات کی دھجیاں*
*​موصوف کا تکبر اس قدر بڑھ چکا تھا کہ وہ ‘رائٹ ٹو انفارمیشن’ (RTI) جیسے عوامی قانون کو جوتی کی نوک پر رکھتے تھے اور کسی قسم کی معلومات دینے سے صاف انکار کر دیتے تھے۔ ماتحت عملے کو دھمکاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “میں جو کہوں وہی قانون ہے، جو نہیں مانے گا اس کی یہاں کوئی جگہ نہیں*”۔
*​ماتحت افسر کی تذلیل اور انجام*
*​کاسہ لبریز اس وقت ہوا جب چند روز قبل محمد عمران نے اپنے ہی ایک ماتحت اہلکار کو دفتر میں غلیظ گالیاں دیں اور دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ یہ واقعہ میڈیا کی زینت بنا تو اعلیٰ حکام حرکت میں آ گئے۔ سیکرٹری لٹریسی پنجاب نے فوری نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں معطل کر دیا، جبکہ ڈی او لٹریسی ٹوبہ ٹیک سنگھ کو جھنگ کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے*۔
*​جھنگ کے عوامی اور سماجی حلقوں نے جاوید اعوان کی اس دلیرانہ رپورٹنگ اور سیکرٹری لٹریسی کے فوری فیصلے کو بھرپور سراہا ہے*۔ *شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے بدتمیز اور کرپٹ افسران کی سرکاری محکموں میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں