*جھنگ(جاوید اعوان سے)ایجوکیشن اتھارٹی میں بندر بانٹ: سی ای او کی گرفت کمزور، ایس ٹی آئی (STI) بھرتیوں میں مبینہ طور پر کروڑوں کے گھپلے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف*
*ضلع جھنگ میں محکمہ تعلیم کے سیاہ و سفید کے مالک افسران نے مبینہ طور پر میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیں۔ سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کی کمزور انتظامی گرفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ماتحت عملے اور ہیڈ ماسٹرز نے من پسند بھرتیاں شروع کر دیں، جس سے پڑھے لکھے نوجوانوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔میرٹ کا قتلِ عام موضع لغاری کا اسکینڈل*
*تفصیلات کے مطابق* *تحصیل احمد پور سیال کے رہائشی حاجی حسنین رضا نے ایک سنگین انکشاف کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن جھنگ کو دہائی دی ہے کہ* *گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول موضع لغاری میں ایس ٹی آئی (STI) کی بھرتیوں میں کھلم کھلا دھاندلی کی گئی ہے*۔ *درخواست گزار کے مطابق میرٹ پر پورا اترنے کے باوجود اس کا حق مار کر ملی بھگت سے دوسرے امیدوار کو نوازا گیا ہے*۔
*انکوائری کمیٹی کی آنکھوں میں دھول*
*ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر سی ای او ایجوکیشن نے ایک* *انکوائری کمیٹی تو تشکیل دی، مگر دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی نکلی۔ کمیٹی نے ابھی تحریری طور پر کوئی فیصلہ صادر ہی نہیں کیا تھا کہ گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول لغاری کے ہیڈ ماسٹر نے “پھرتیوں” کا مظاہرہ کرتے ہوئے، انکوائری کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر ہی من پسند امیدوار کو تقرری نامہ جاری کر دیا۔ یہ اقدام نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اعلیٰ حکام کے منہ پر طمانچہ بھی ہے*۔
*پورے ضلع میں بھرتیوں کی “سیل” لگ گئی*
*باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ بے ضابطگیاں صرف ایک سکول تک محدود نہیں بلکہ پورے ضلع جھنگ میں ایس ٹی آئی کی بھرتیوں میں “منڈی” لگی ہوئی ہے۔ میرٹ کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی اثر و رسوخ اور مبینہ لین دین کے ذریعے تقرریاں کی جا رہی ہیں*، *جس سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے شفافیت کے دعوے خاک میں ملتے نظر آ رہے ہیں۔اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل*
*عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خان، اور سیکرٹری تعلیم مدثر ریاض ملک سے مطالبہ کیا ہے کہ*:
*ضلع جھنگ میں کی گئی تمام ایس ٹی آئی بھرتیاں اور تقرری نامے فوری طور پر منسوخ کیے جائیں*۔
*اس میگا اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی آزاد انکوائری کمیٹی بنائی جائے*۔
*قانون کا مذاق اڑانے والے ہیڈ ماسٹرز اور سہولت کار افسران کو عبرت کا نشان بنایا جائے*۔
*شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی کارروائی نہ ہوئی تو غریب اور باصلاحیت نوجوانوں کا سسٹم سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اس کھلی کرپشن پر کیا ایکشن لیتے ہیں*۔
422









