*عالمی یوم مزدور مزدوروں کی فتح کا دن*
*راقم تحریر مہر محمد شریف*
*ضلعی نائب صدر /میڈیا ایڈوائزر پنجاب ٹیچرز یونین ڈسٹرکٹ جھنگ*
اج دنیا محنت کشوں کی مرہون منت ہے ہر قوم ہر ملک کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات ہوتے ہیں جن کو اذان و قلوب سمحو نہیں کیا جا سکتا جن میں یکم مئی خاص اہمیت رکھتا ھے اس دن دنیا کے مزدور محنت کی عظمت کے پرچم ہاتھوں میں لیے جلوس اور دیگر تقریبات منعقد کرتے ہیں یہ دن دنیا کے تمام مزدوروں کے لیے جدوجہد کی فتح کا دن ھے یوم مئی کا دن پاکستان کے مزدوروں کو منظم کرنا انہیں احساس دلاتا ھے کہ ان کی اندر قوم ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے جذبہ پیدا کرتا ھے یہ شگاگو کے مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ھے جنہیں نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے خون کا نظرانہ پیش کیا دنیا کے مزدور اس دن شکاگو کے کہ جیالوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے عالمی تحریک کو کو عالمی تحریک بنا دیا جنہوں نے اپنے حقوق کی ایک لازوال مثال قائم کی تحریک کے دوران بے شمار مزدوروں کو پھانسیوں پر لٹکایا گیا شکاگو کے سڑکیں خون سے رنگین ہو گئیں یہ یہی وجہ ہے کہ عالمی اداروں نے اصول دنیاوی طور پر تسلیم کیا کہ دنیا میں پائیدار امن سماجی انصاف کے قیام کے بغیر ممکن نہیں اور اس کے لیے کارکنوں کے حالات کو بہتر کرنے اور ان کو معقول اجرتیں دینے کے اور ان کے حق میں یونین سازی احترام کا احترام بے روزگاری بیماری اور بڑھاپے پر انہیں معقول سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے بے روزگاری کا خاتمہ کے لیے ریاستی اقدامات کو تیز کرنے اور پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کی سہولتوں کو فراہم کرنے پر عمل درامد کی ضرورت پر زور دیا یکم مئی 1972 کو حکومت پاکستان نے پہلی بار باضابطہ طور پر سرکاری طور پر یکم مئی کو محنت کشوں کا دن قرار دیا تب سے یہ اب تک ہر سال یکم مئی کو ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے اور پاکستان کے تمام محنت کشوں دنیا کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر ان کے ساتھیوں کے کی یاد میں اس روز دنیا بھر کے محنت کش شکاگو کو کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جلسے جلوس ریلیاں سیمینار وغیرہ منعقد کرتے ہیں اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے انٹرنیشنل لیبر ارگنائزیشن کے تحت محنت کشوں کو درپیش مسائل کے تدارک کے لیے ہر کوشش کی جاتی ہے مگر یہ حقیقت بھی اس جگہ اٹل ہے کہ دنیا بھر میں اج بھی مزدور انتہائی نامسائد حالات کا شکار ہیں جب بھی کام کی جگہ پر حفاظتی حالات نہ ہونے سے لاکھوں مزدور مر جاتے ہیں لاکھوں کارکن مختلف جگہوں پر کام کی نوعیت کی وجہ سے بیمار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ زرعی شعبے سے منسلک محنت کشوں پر قوانین محنت کا اطلاق ہی نہیں ڈالتے تو اقا دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مزدوروں کے حقوق اور سلامتی کے تمام تقاضے پورے پورے کر دیے اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دی جائے امام ابو حنیفہ رضی اللہ مزدور کی امدنی کو تمام امدنیوں پر فضیلت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنے ہاتھ کی کمائی بہت بہتر رزق ہے کسی نے بھی نہیں کھایا ہوگا اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کی کمائی سے رزق حاصل کرتے تھے ہمارے اباؤ اجداد حضرت ادم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے حضرت داؤد علیہ السلام ذرا بناتے تھے حضرت نوح علیہ السلام کشتیاں بناتے تھے حضرت ہود علیہ السلام کپڑے سیتے تھے پاکستان کی بات ہو تو محنت کشوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں پاکستانی مزدور کمر توڑ مہنگائی کی اجرت بنیادی حقوق فقدان کی سی ہے دہشت گرردی اور امن کی ناقص صورتحال نے بھی زندگی اجیرن کر دی ہے مزدور کے لیے مزدوری کے لیے اپنے ملک میں بعض جگہوں پر جانے والوں کو نہیں بخشا جاتا
تو قادر عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
37









