*جھنگ(جاوید اعوان سے)دفتر IRMNCH میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، من پسند ملازمین کی موجیں۔سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول، مرمت اور ٹریننگ فنڈز میں لاکھوں کے گھپلے، فیلڈ سٹاف محروم*
*ضلع جھنگ میں مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ پروگرام (IRMNCH) کا دفتر کرپشن اور اقربا پروری کا گڑھ بن گیا۔ سرکاری فنڈز کے بے دریغ اور غیر قانونی استعمال نے ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر کی مبینہ سرپرستی میں مخصوص لابی سرکاری وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے۔من پسند ملازمین پر نوازشات کی بارش*
*تفصیلات کے مطابق، دفتر میں تعینات چند نیوٹریشن سپروائزرز فیلڈ ڈیوٹی کے بجائے مستقل طور پر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر کے دفتر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ان “پسندیدہ” ملازمین کو نہ صرف سرکاری پیٹرول وافر مقدار میں فراہم کیا جاتا ہے، بلکہ ان کی گاڑیوں کی مرمت کے نام پر بھی سرکاری خزانے سے خطیر رقوم نکلوائی جا رہی ہیں*۔
*ٹریننگ فنڈز اور ٹی اے ڈی اے میں خرد برد
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریننگ پروگرامز، جو کہ فیلڈ سٹاف کی مہارت بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں، اب صرف کاغذوں تک محدود یا مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان ٹریننگز میں انہی چہیتے ملازمین کے نام شامل کیے جاتے ہیں تاکہ وہ ٹی اے ڈی اے (TA/DA) اور دیگر مالی مراعات حاصل کر سکیں*، *جبکہ حقدار اور محنتی ملازمین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے*۔
*فیلڈ ورک متاثر، انتظامی تبدیلی کا مطالبہ*
*نام نہ بتانے کی شرط پر ملازمین نے بتایا کہ*:
”*ادارے کا 90 فیصد کام فیلڈ ورک پر مبنی ہے، لیکن عرصہ دراز سے یہاں صرف خواتین افسران کو ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر تعینات کیا جا رہا ہے جو فیلڈ کی کڑی نگرانی کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر اس سیٹ پر کسی متحرک مرد افسر کو تعینات کیا جائے تو ادارے کے نتائج بہتر ہو سکتے ہیں۔” جب اس سلسلے میں موقف کے لیے دفتر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر کا وزٹ کیا گیا تو وہ دفتر میں موجود نہ تھیں جب انکے پرسنل نمبر کال کی گئی تو انکا نمبر بند تھا پھر بھی ھمارے اوراق انکے موقف کے لیے ہر وقت حاضر ہیں*
*اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل*
*جھنگ کے عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ*
*دفتر IRMNCH جھنگ کے ریکارڈ کا فوری آڈٹ کروایا جائے*۔
*پیٹرول اور گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات کی چھان بین کی جائے*۔
*فنڈز میں خرد برد کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے*۔
*عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان بے ضابطگیوں کو نہ روکا گیا تو غریب ماؤں اور بچوں کی صحت کے لیے آنے والا بجٹ اسی طرح افسران کی بندر بانٹ کی نذر ھوتا رھے گا*
185









