131

*​جھنگ( جاوید اعوان سے)انسانی جانوں سے کھیلنے والے موت کے سوداگروں کے خلاف گھیرا تنگ۔​گیس ریفلنگ کے دوران لگی آگ نے سول ڈیفنس کی کارکردگی کا پول کھول دیا؛ مقدمہ درج*

*​جھنگ( جاوید اعوان سے)انسانی جانوں سے کھیلنے والے موت کے سوداگروں کے خلاف گھیرا تنگ۔​گیس ریفلنگ کے دوران لگی آگ نے سول ڈیفنس کی کارکردگی کا پول کھول دیا؛ مقدمہ درج*
*جھنگ شہر ایک بار پھر لرز اٹھا! گیس ریفلنگ کے نام پر موت بانٹنے والی دکانوں نے ایک اور ہنستی بستی مسافر ویگن کو شعلوں کی نذر کر دیا۔ تھانہ کوتوالی کی حدود میں گیس ریفلنگ کے دوران مسافر ویگن میں اچانک لگنے والی ہولناک آگ کے معاملے میں پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے دکان کے مالک شیخ علی رضا عرف ٹیپو اور اس کے ملازم عمران ولد سعید کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے*۔
*​ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس مالک کی دکان موت کا باعث بنی ہو۔ اس سے قبل بھی لاری اڈہ میں اسی مالک کی دوسری دکان میں آتشزدگی کا ہولناک واقعہ پیش آ چکا ہے، جس میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی گھرانے اجڑ گئے*۔ *مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود اس “موت کے سوداگر” کو دوبارہ کاروبار کرنے کی اجازت کس نے دی؟​سول ڈیفنس: ‘چین کی بانسری’ یا ‘کاغذی کارروائی’؟*
*​شہریوں نے سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ جھنگ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محکمہ صرف “چین کی بانسری” بجانے میں مصروف ہے۔ جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے اور لاشیں گرتی ہیں، تو یہ محکمہ خوابِ خرگوش سے جاگ کر فوری طور پر “مدعی” بن کر پرچہ درج کروانے پہنچ جاتا ہے تاکہ اپنی غفلت پر پردہ ڈال سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ محکمہ حادثے سے پہلے قانونی کارروائی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتا، تو آج جھنگ کے باسی خوف و ہراس کے سائے میں نہ جی رہے ہوتے*۔
*​اعلیٰ حکام سے اپیل: اب نہیں تو کب؟*
*​عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، کمشنر فیصل آباد اور ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ*:
*​جھنگ کے سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کی اعلیٰ سطحی انکوائری کروائی جائے۔​شہر کے گنجان آباد علاقوں میں موجود غیر قانونی گیس ریفلنگ پوائنٹس کو فوری سیل کیا جائے۔​ان افسران کا تعین کیا جائے جن کی پشت پناہی سے یہ خطرناک کاروبار دوبارہ شروع ہوا*
*​شہریوں کا کہنا ہے کہ محض مقدمہ درج کرنا کافی نہیں، جب تک ان “سفید پوش” سہولت کاروں کو لگام نہیں ڈالی جائے گی، تب تک جھنگ کی سڑکیں اور بازار محفوظ نہیں ہو سکتے*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں