*جھنگ(جاوید اعوان سے)ایجوکیشن اتھارٹی میں کرپشن کا ‘میگا سکینڈل’ بے نقاب: محکمہ تعلیم کے افسران اور ہیڈ ماسٹرز کے گٹھ جوڑ کی بو پھیل گئی.7 لاکھ کے غبن کو 57 ہزار میں بدلنے کا جادو: اینٹی کرپشن فیصل آباد میں دہائی، سی ای او ایجوکیشن بھی نشانے پر*
*محکمہ تعلیم جھنگ میں مبینہ کرپشن، اقربا پروری اور ریکارڈ کی ‘ہاتھ صفائی’ کا ایک ایسا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جس نے ضلع بھر کے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جھنگ کے ایک نڈر شہری ظفر مہدی نے سی ای او ایجوکیشن، ہیڈ ماسٹر اسلامیہ سکول اور ہیڈ ماسٹر کلیرہ سکول کے خلاف کرپشن کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔غبن کا انوکھا کھیل*: *ریکارڈ ہی چوری کر لیا گیا*
*تفصیلات کے مطابق، پی پی 125 کے رہائشی ظفر مہدی نے اپنی درخواست میں ہوش ربا انکشافات کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری سکول کلیرہ کے ہیڈ ماسٹر عبدالخالق نے دو سکولوں (کلیرہ اور سلطان بخش) کے این ایس بی (NSB) اور ایف ٹی ایف (FTF) فنڈز میں 7 لاکھ روپے کا مبینہ غبن کیا*۔ *صرف یہی نہیں، بلکہ اپنی گردن بچانے کے لیے سکولوں کے سرکاری رجسٹر اور آرڈرز تک غائب (چوری) کر لیے گئے*۔
*انکوائری یا ‘مٹی پاؤ’ مہم؟*
*درخواست گزار کے مطابق، جب ڈی ای او، ڈپٹی ڈی ای او اور اے ای او جھنگ نے انکوائری کی اور ریکوری کی سفارش کی، تو ‘پیڈا ایکٹ’ کے تحت فائنل انکوائری ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ اسلامیہ سکول جھنگ کے سپرد کی گئی۔ الزام ہے کہ مذکورہ انکوائری افسر نے دیانتداری دکھانے کی بجائے ملزم ہیڈ ماسٹر سے ‘یاری’ نبھائی اور اسے ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے مکمل وقت دیا گیا*۔ *نتیجہ یہ نکلا کہ 7 لاکھ روپے کی ریکوری کو جادوئی طریقے سے کم کر کے صرف 57 ہزار روپے کر دیا گیا، جو کہ قومی خزانے پر شب خون مارنے کے مترادف ہے*۔
*بچے پیاسے، پودے جل گئے، افسر خاموش*!
*درخواست میں دل دہلا دینے والا انکشاف کیا گیا ہے کہ سابقہ ہیڈ ماسٹر کی مبینہ بدعنوانی اور عدم ادائیگی کے باعث سکول کا بجلی کا کنکشن کاٹ دیا گیا، جس سے دو ماہ تک معصوم بچے اور اساتذہ پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے۔ واش رومز کے استعمال میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور سکول کے ہزاروں روپے مالیت کے قیمتی پودے پانی نہ ملنے سے سوکھ کر کوئلہ بن گئے، مگر حکام کے دل نہ پگھلے*۔
*سی ای او ایجوکیشن پر سنگین الزامات*
*ظفر مہدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کو بالمشافہ ملاقات میں تمام صورتحال سے آگاہ کیا، لیکن ان کے “کان پر جوں تک نہ رینگی”۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ سی ای او کی اس مجرمانہ خاموشی سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کرپشن کے کھیل میں برابر کی شریک ہیں*۔
*اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل*
*عوامی اور سماجی حلقوں نے اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے* *وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم پنجاب، صوبائی سیکرٹری تعلیم پنجاب۔ کمشنر فیصل آباد اور ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس “ایجوکیشن مافیا” کے خلاف فوری اور شفاف انکوائری کروائی جائے*
۔









