*جھنگ(جاوید اعوان سے)ریت چوری کی بڑی واردات بے نقاب، میڈیا کی نشاندہی پر انتظامیہ حرکت میں آ گئی*
*جھنگ کے تھانہ صدر کے علاقے میں سرکاری خزانے پر شب خون مارنے کی بڑی کوشش ناکام بنا دی گئی*۔ *میڈیا کی بروقت نشاندہی اور “واچ ڈاگ” کے کردار نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو خوابِ خرگوش سے جگا دیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں روپے مالیت کی سرکاری ریت چوری کرنے والے گروہ کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے*
*تفصیلات کے مطابق* *سرکاری اثاثوں پر ڈاکہ*
*ذرائع کے مطابق تھانہ صدر کے علاقے میں بااثر ریت مافیا گزشتہ کئی روز سے ملی بھگت کے ذریعے* *سرکاری ریت ٹھکانے لگانے میں مصروف تھا۔ اس منظم چوری سے قومی خزانے کو تقریباً 8 لاکھ روپے کا چونا لگایا جا رہا تھا۔ جب مقامی میڈیا کے نمائندوں نے اس غیر قانونی سرگرمی کی فوٹیجز بنائیں اور اعلیٰ حکام کو حقائق سے آگاہ کیا، تو محکمہ مال اور پولیس کی دوڑیں لگ گئیں*۔
*پولیس نے میڈیا رپورٹ پر فوری ایکشن لیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے*۔ *ابتدائی تفصیلات کے مطابق نامزد ملزمان: 10 افراد کو موقع پر موجود ہونے اور چوری میں ملوث ہونے پر نامزد کیا گیا ہے*۔
*نامعلوم ملزمان 6 مزید افراد کے خلاف بھی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جو پسِ پردہ اس کھیل کے مہرے تھے۔یہ کاروائی تھانہ صدر جھنگ کی حدود میں عمل میں لائی گئی.ریت مافیا کا گٹھ جوڑ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریت کی اتنی بڑی مقدار کا غائب ہونا کسی “چمتکار” سے کم نہیں تھا.میڈیا نے جب موقع پر پہنچ کر پردہ چاک کیا تو معلوم ہوا کہ دن دیہاڑے سرکاری مشینری اور وسائل کا بے دریغ استعمال کر کے ریت چوری کی جا رہی تھی*۔یہ *صرف ریت کی چوری* *نہیں بلکہ عوامی اعتماد* *اور سرکاری وسائل پر ڈاکہ ہے۔ ہم میڈیا کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ضمیر کی آواز بلند کی اور ان عناصر کو بے نقاب کیا*”
*ایس ایچ او تھانہ صدر کا کہنا ہے کہ قانون کی گرفت سے کوئی بھی بالاتر نہیں ہے۔ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور بہت جلد تمام کردار سلاخوں کے پیچھے ہوں گے*۔
153









