132

*جھنگ(جاوید اعوان سے)رمضان سے قبل ہی مہنگائی کا ‘ایٹم بم’: گراں فروشوں نے چھریاں تیز کر لیں، انتظامیہ خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگی*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)رمضان سے قبل ہی مہنگائی کا ‘ایٹم بم’: گراں فروشوں نے چھریاں تیز کر لیں، انتظامیہ خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگی*
*​سٹلائیٹ ٹاؤن میں اشیاء خوردونوش کو پر لگ گئے: “جاؤ ڈپٹی کمشنر کو بتا دو”، دکانداروں نے پرائس لسٹیں ہوا میں اڑا دیں*
*رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، رحمتوں کے مہینے کا استقبال کرنے کی بجائے جھنگ کے گراں فروشوں نے غریب عوام کی جیبیں کاٹنے کے لیے اپنے ‘استرے’ تیز کر لیے ہیں۔ سٹلائیٹ ٹاؤن سمیت شہر بھر میں فروٹ، سبزیوں اور دیگر اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی مبینہ “فوج ظفر موج” فیلڈ سے غائب نظر آتی ہے*۔
*​مہنگائی کا جن بوتل سے باہر: سرکاری ریٹ لسٹیں قصہ پارینہ*
*تفصیلات کے مطابق، جھنگ میں ابھی رمضان شروع نہیں ہوا مگر ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں نے پہلے ہی مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا ہے*۔ *سٹلائیٹ ٹاؤن کے حساس علاقے میں دودھ، دہی، پھل اور سبزیاں من مانے ریٹوں پر فروخت کی جا رہی ہیں*۔ *سرکاری پرائس لسٹ کا کہیں نام و نشان تک نہیں ملتا۔ دکانداروں نے اپنی متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے جہاں قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی*۔
​”*جاؤ ڈی سی کو بتا دو*”: *دکانداروں کی دیدہ دلیری*
*عوامی ذرائع کے مطابق جب کوئی شہری دکاندار کو سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق چیز دینے کا کہتا ہے تو آگے سے ٹکا سا جواب ملتا ہے کہ “ہمیں مال مہنگا ملتا ہے، ہم سستا نہیں بیچ سکتے”۔ حد تو یہ ہے کہ جب شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ کی کارروائی کا حوالہ دیا تو بعض مغرور دکانداروں نے ڈھٹائی کی انتہا کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ “جاؤ، جو کرنا ہے کر لو اور جا کر ڈپٹی کمشنر کو ہی بتا دو*”۔ *دکانداروں کا یہ لہجہ انتظامیہ کی رٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے*۔
*​پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کہاں ہیں*؟
*اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ کاغذوں میں تو مجسٹریٹس کی بڑی تعداد موجود ہے، لیکن زمین پر کہیں بھی کوئی چھاپہ یا کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ نے عوام کو گراں فروشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور خود اے سی والے کمروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے*۔
*​ڈی سی جھنگ سے فوری مداخلت کی اپیل*
*عوامی اور سماجی حلقوں سمیت اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حساس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ سٹلائٹ ٹاؤن اور گردونواح میں چھاپہ مار ٹیمیں متحرک کی جائیں اور ان سرکش دکانداروں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے جو سرِ عام انتظامیہ کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ابھی سے ایکشن نہ لیا گیا تو رمضان میں غریب کے لیے افطاری کرنا بھی خواب بن جائے گا*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں