170

*جھنگ(جاوید اعوان سے)سی اینڈ ڈبلیو (C&W) میں مبینہ “مال پانی” کا جادو، سب انجینئر “ایس ڈی او” بن بیٹھا.​مشتاق حبیب کی غیر قانونی ترقی پر سیکرٹری تعمیرات و مواصلات پنجاب کا کڑا نوٹس، کرپشن کی فائلیں کھل گئیں*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)سی اینڈ ڈبلیو (C&W) میں مبینہ “مال پانی” کا جادو، سب انجینئر “ایس ڈی او” بن بیٹھا.​مشتاق حبیب کی غیر قانونی ترقی پر سیکرٹری تعمیرات و مواصلات پنجاب کا کڑا نوٹس، کرپشن کی فائلیں کھل گئیں*
*محکمہ تعمیرات و مواصلات (C&W) جھنگ میں اقربا پروری اور مبینہ مالی لین دین کے بل بوتے پر قانون کی دھجیاں بکھیرنے کا انکشاف ہوا ہے*۔ *ایک معمولی سب انجینئر نے قواعد و ضوابط کو پیروں تلے روندتے ہوئے نہ صرف ایس ڈی او (SDO) کی کرسی پر قبضہ جما لیا بلکہ مبینہ “مک مکا” کے ذریعے انکوائریوں کو بھی ردی کی ٹوکری کی نذر کرواتا رہا۔ تاہم، اب قانون کا گھیرا تنگ ہونا شروع ہو گیا ہے*فائلوں کی ہیرا پھیری اور نچلے عملے کا گٹھ جوڑ*
*​تفصیلات کے مطابق*، *جھنگ کے ایک شہری نے مشتاق حبیب، ایس ڈی او بلڈنگ سب ڈویژن کی غیر قانونی ترقی کے خلاف سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو پنجاب کو دہائی دی تھی*۔ *ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بااثر مشتاق حبیب نے پہلے تو سیکرٹری آفس کے نچلے عملے کے ساتھ مبینہ* “*سیٹنگ” کر کے شکایت کی فائل کو دبا دیا، لیکن شہری کی دوبارہ بھرپور* *درخواست پر سیکرٹری صاحب نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے سخت نوٹس لے لیا ہے*۔
*​ایک ہی دفتر میں برسوں سے براجمان: “سونے پر سہاگا*
*​حیرت انگیز انکشافات کے مطابق، مشتاق حبیب عرصہ دراز سے بلڈنگ ڈویژن جھنگ میں بطور سب انجینئر جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ پہلے سب انجینئر، پھر سینئر سب انجینئر اور اب غیر قانونی طور پر ایس ڈی او بن کر اسی سب ڈویژن میں “مال پانی” کے زور پر راج کر رہے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ موصوف کا یہاں سے تبادلہ نہیں ہوتا اور انہیں غیر قانونی طور پر ترقی کا “تحفہ” کس نے دیا؟*
*​عوامی مطالبہ: “لوٹی ہوئی رقم واپس کرو*”
*​جھنگ کے عوامی اور سماجی حلقوں نے صوبائی سیکرٹری تعمیرات و مواصلات پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ*:
*​مشتاق حبیب کو فوری طور پر ایس ڈی او کے عہدے سے ہٹا کر دوبارہ سب انجینئر بنایا جائے*۔
*​بطور ایس ڈی او وصول کی گئی تمام تنخواہیں اور مراعات سرکاری خزانے میں واپس جمع کروائی جائیں*
*​غیر قانونی دورِ اقتدار میں کیے گئے تمام ترقیاتی کاموں کی اعلیٰ سطحی انکوائری کروائی جائے تاکہ کرپشن کے حقائق سامنے آ سکیں*۔
*​اس غیر قانونی ترقی میں شامل محکمے کے “سہولت کاروں” کو بھی بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دی جائے*۔
*​ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شفاف انکوائری ہوئی تو محکمہ بلڈنگ جھنگ کے کئی بڑے نام اس “بہتی گنگا” میں ہاتھ دھونے کے جرم میں رگڑے جائیں گے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں