*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔گورنمنٹ گرلز کالج کھیوہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کا گڑھ بن گیا، پرنسپل اور عملے کی “ملی بھگت” نے ادارے کی ساکھ خاک میں ملا دی*
*طالبات سے اضافی فیسوں کی وصولی، ڈیوٹی چور ملازمین کو “گھر بیٹھے” تنخواہوں کی فراہمی اور کینٹین کے نام پر غریب طالبات کی جیبوں پر ڈاکو ڈالنے کا انکشاف*
*میڈیا کے رابطہ کرنے پر پرنسپل کا موقف دینے سے گریز، کلرک کے ذریعے ٹرخانے کی کوشش؛ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سیکرٹری تعلیم سے فوری ایکشن کا مطالبہ*
*گورنمنٹ گرلز کالج کھیوہ میں مبینہ کرپشن اور انتظامی بدحالی نے ات مچا دی۔ پرنسپل اور چند چہیتے ملازمین نے مل کر کالج کو تعلیمی ادارے کے بجائے “لوٹ مار کی سیل” بنا ڈالا۔ معتبر ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق کالج ہذا میں کرپشن کے ایسے جھنڈے گاڑے گئے ہیں کہ قانون اور ضابطے سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں*۔
*ڈیوٹی چوری اور “حصہ بقدرِ جثہ”*
*انکشاف ہوا ہے کہ پرنسپل اور عملے کے درمیان مبینہ “مک مکا” طے پا چکا ہے، جس کے تحت کئی ملازمین ڈیوٹی پر آنے کے بجائے گھر بیٹھے سرکاری خزانے سے تنخواہیں بٹور رہے ہیں اور اس کے بدلے میں مبینہ طور پر پرنسپل کو باقاعدہ “حصہ” پہنچایا جاتا ہے۔ جب بھی کسی غیر حاضر ملازم کے بارے میں دریافت کیا جائے تو “عارضی ڈیوٹی” کا فرضی بہانہ بنا کر فائلیں دبا دی جاتی ہیں۔طالبات کی جیبوں پر ڈاکہ اور کینٹین مافیا تعلیم کے نام پر طالبات کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ سرکاری فیس سے زائد رقم وصول کرنا معمول بن چکا ہے*، *جبکہ رقم لینے کے باوجود طالبات کو کوئی سرکاری رسید فراہم نہیں کی جاتی۔ حد تو یہ ہے کہ کالج کی کینٹین کو قانون کے مطابق ٹھیکے پر دینے کے بجائے عملہ خود چلا رہا ہے۔ کینٹین پر نہ صرف غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء فروخت کی جا رہی ہیں، بلکہ ان سے ہونے والا منافع سرکاری خزانے میں جمع کروانے کے بجائے آپس میں بانٹ لیا جاتا ہے* *انتظامیہ کا غیر ذمہ دارانہ رویہ*
*اس سنگین صورتحال پر جب میڈیا ٹیم نے پرنسپل سے ان کے ذاتی موبائل نمبر 03135271919 پر رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دینے کے بجائے کلرک خالد کی طرف ٹال دیا۔ کلرک خالد نے روایتی ہتھکنڈے اپناتے ہوئے سب اچھا کی رپورٹ دی اور میڈیا نمائندگان کو “کالج آ کر بات کرنے” کا کہہ کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی*۔
*اہلِ علاقہ اور عوامی سماجی حلقوں نے دہائی دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری، وزیرِ تعلیم اور کمشنر فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ اس “کرپشن نیٹ ورک” کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔ مزید برآں، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی جھنگ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر کینٹین پر چھاپہ مار کر طالبات کی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کو بے نقاب کریں*۔
187









