166

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ٹمبر مافیا کا راج یا ڈسٹرکٹ کونسل انتظامیہ کی آنکھ مچولی؟ اڈہ پٹائی میں سرسبز درختوں کا بیدردی سے قتلِ عام!*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ٹمبر مافیا کا راج یا ڈسٹرکٹ کونسل انتظامیہ کی آنکھ مچولی؟ اڈہ پٹائی میں سرسبز درختوں کا بیدردی سے قتلِ عام!*
​ *ضلع جھنگ کی تحصیل احمد پور سیال کے علاقے اڈہ پٹائی (ٹاٹری والا) میں سبزہ دشمنی کی انتہا ہو گئی۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے مبینہ انسپکٹر اور ٹھیکیدار کی “ملی بھگت” نے ماحول دشمنی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ سرِ عام سرسبز درختوں پر کلہاڑیاں چلا کر مستقبل کی نسلوں کا سانس چھینا جانے لگا* *ڈسٹرکٹ کونسل انتظامیہ کی خاموشی پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ، ڈی سی جھنگ سے فوری نوٹس کا مطالبہ*۔
*​میڈیا کو دیکھ کر ٹھیکیدار روپوش، کارندوں کی “سنی ان سنی*”
*​تفصیلات کے مطابق اڈہ پٹائی میں ٹمبر مافیا نے سرکاری سرپرستی میں دن دہاڑے درختوں کا قتلِ عام شروع کر رکھا ہے۔ جب میڈیا کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر حقائق جاننے کی کوشش کی تو ٹھیکیدار کے کارندوں نے کسی فلمی ڈرامے کی طرح نہ صرف لاعلمی کا اظہار کیا بلکہ اپنے ہی “مالک” (ٹھیکیدار) کا موبائل نمبر دینے سے بھی صاف انکار کر دیا*۔ *کارندوں کی ہٹ دھرمی اور ٹھیکیدار کا موقع سے فرار ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے*۔
*​انتظامیہ سے چبھتے ہوئے سوالات*
*​عوامی سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ و ایڈمنسٹریٹر ڈسٹرکٹ کونسل سے سوال کیا ہے کہ*
*​کیا ضلعی انتظامیہ نے ان ہرے بھرے درختوں کو کاٹنے کا پروانہ جاری کیا ہے؟​اگر نہیں، تو یہ ٹمبر مافیا سرکاری مشینری اور افسران کی ناک کے نیچے اتنی دیدہ دلیری سے کام کیسے کر رہا ہے؟*
*​”درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے، لیکن یہاں چند سکوں کی ہوس میں ماحولیاتی دہشت گردی کی جا رہی ہے۔”*
“*​اہالیانِ علاقہ اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ:​اس غیر قانونی کٹائی کو فوری طور پر رکوایا جائے۔​کالی بھیڑوں (ملاوٹ یافتہ انسپکٹر اور ٹھیکیدار) کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔​کٹی ہوئی لکڑی کو فوری قبضے میں لے کر سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے*۔
*​شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کارروائی نہ ہوئی تو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے “گرین پنجاب” ویژن پر یہ ایک بدنما دھبہ ثابت ہوگا*
*جب اس سلسلے میں ترجمان ڈسٹرکٹ کونسل سے بات ھوئی تو اس کے کہا کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ھو رھا ھے ھمارا عملہ قانون کے دائرے میں ھی رہ کر سارے کام کر رھا ھے*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں