179

*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔بڑے برج الٹنے کی تیاری: ڈسٹرکٹ جیل جھنگ کے سپرنٹنڈنٹ اور 4 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کے خلاف ‘بجلی چوری’ کی درخواست​قانون کے محافظ ہی قانون شکن نکلے؟ شہری نے تھانہ کوتوالی میں مقدمہ کے اندراج کے لیے دہائی دے دی*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔بڑے برج الٹنے کی تیاری: ڈسٹرکٹ جیل جھنگ کے سپرنٹنڈنٹ اور 4 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کے خلاف ‘بجلی چوری’ کی درخواست​قانون کے محافظ ہی قانون شکن نکلے؟ شہری نے تھانہ کوتوالی میں مقدمہ کے اندراج کے لیے دہائی دے دی*
*جھنگ میں قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان لگ گیا! جہاں عام آدمی بجلی کا بل نہ بھرے تو فوراً لائن کاٹ دی جاتی ہے، وہیں ڈسٹرکٹ جیل جھنگ کے اعلیٰ افسران پر ‘بجلی چوری’ کا سنگین الزام سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک نڈر شہری نے سپرنٹنڈنٹ جیل اور چار ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کے خلاف بجلی چوری کی درخواست برائے اندراج مقدمہ تھانہ کوتوالی میں جمع کروا دی ہے، جس نے محکمہ جیل خانہ جات کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے*۔
*​درخواست جمع، مگر قانون ‘خاموش*’
*​تفصیلات کے مطابق، درخواست گزار شہری کا موقف ہے کہ جیل کے طاقتور افسران مبینہ طور پر بجلی چوری میں ملوث ہیں اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ تھانہ کوتوالی میں درخواست جمع ہوئے عرصہ گزر گیا، مگر تاحال پولیس کے ‘ہاتھ پاؤں پھولے’ ہوئے ہیں اور کسی قسم کا کوئی ایکشن یا مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ کیا قانون صرف غریب کے لیے ہے؟ یہ سوال آج جھنگ کے ہر شہری کی زبان پر ہے*۔
*​حکومتی دعووں کا امتحان*
*​ایک طرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بجلی چوروں کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں، تو دوسری طرف جھنگ میں جیل افسران کے خلاف درخواست سرد خانے کی نذر کی جا رہی ہے۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل سوالات اٹھائے ہیں*:
*​کیا جیل کے یہ افسران قانون سے بالاتر ہیں؟*
*​پولیس افسران پر مقدمہ درج کرنے سے کیوں کترارہی ہے؟*
*​کیا آئی جی جیل خانہ جات اس سنگین کرپشن کا نوٹس لیں گے؟*
*​اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل*
*​اہلِ علاقہ، سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری، صوبائی وزیر جیل خانہ جات اور آئی جی پنجاب جیل خانہ جات سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں*۔ *عوام کا کہنا ہے کہ اگر جیل جیسے حساس ادارے کے سربراہان ہی بجلی چوری جیسے جرائم میں ملوث پائے گئے، تو نظامِ عدل کی ساکھ خاک میں مل جائے گی*۔
*​اگلے شمارے میں: کیا پولیس مقدمہ درج کرے گی یا دباؤ کے تحت فائل بند کر دی جائے گی؟* *سنسنی خیز انکشافات جلد!*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں