*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف بڑا دھماکہ: سابق CEO ایجوکیشن اور پرنسپل ہائر سیکنڈری سکول سٹلائیٹ ٹاؤن کے گرد گھیرا تنگ!*
*محکمہ تعلیم جھنگ میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور اقربا پروری کا کچا چٹھا کھل گیا! صوبائی محتسب اعلیٰ پنجاب نے محکمہ تعلیم کے “بڑے برجوں” کو ہلا کر رکھ دیا* *گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول سیٹلائٹ ٹاؤن میں STI (اسکول ٹیچر انٹرنز) کی بھرتیوں میں ہونے والی مبینہ دھاندلی اور بدانتظامی پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے سابق سی ای او ایجوکیشن عقیلہ انتخاب خان اور متعلقہ پرنسپل کے خلاف انضباطی کارروائی کا حکم جاری کر دیا گیا ہے*۔
*انکوائری میں سنگین انکشافات*
*ذرائع کے مطابق، مذکورہ اسکول میں بھرتیوں کے دوران میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی شکایت پر ایڈوائزر ٹو صوبائی محتسب اعلیٰ نے تفصیلی انکوائری مکمل کی*۔ *انکوائری رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ بھرتیوں کے عمل میں قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈال کر من پسند افراد کو نوازا گیا اور انتظامی بدحالی کا مظاہرہ کیا گیا*
*صوبائی محتسب اعلیٰ پنجاب نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں سیکرٹری تعلیم پنجاب کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ*
*اس بدانتظامی کے ذمہ دار افسران اور ملازمین کا فوری تعین کیا جائے*۔
*ان کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے*۔
*45 دن کے اندر اندر اس فیصلے پر عمل درآمد کر کے تعمیلی رپورٹ محتسب دفتر میں جمع کروائی جائے*۔
*جیسے ہی یہ فیصلہ سامنے آیا، جھنگ کے عوامی اور سماجی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ “سرکاری عہدوں کو ذاتی جاگیر سمجھنے والوں کا اب کڑا احتساب ہوگا۔”* *جاوید اعوان کی اس خبر نے ضلع بھر کے کرپٹ عناصر کی نیندیں حرام کر دی ہیں*۔
*”اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے یہ بااثر افسران 45 دن کے اندر قانون کے شکنجے میں آتے ہیں یا پھر فائلوں کا پیٹ بھر کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی جائے گی؟”*
133









