*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔محکمہ صحت میں درجہ چہارم عملہ غائب، ہسپتالوں کی سیکیورٹی داؤ پر لگ گئی*
*ضلع جھنگ کے سرکاری ہسپتالوں میں تعینات نائب قاصد، سیکیورٹی گارڈز اور دیگر درجہ چہارم ملازمین کی مبینہ غیر حاضری اور ڈیوٹیوں سے غفلت کے باعث سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد ملازمین اپنے تقرری آرڈرز کے تحت فرائض سرانجام دینے کے بجائے ضلعی افسران کے “کارخاص” بن کر جعلی ایم ایل سی، ٹرانسفر و پوسٹنگ اور این او سی کے معاملات میں مبینہ طور پر ملوث دکھائی دیتے ہیں*۔
*اطلاعات کے مطابق کئی درجہ چہارم ملازمین کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رپورٹس بھی مرتب کر رکھی ہیں، تاہم تاحال کسی قسم کی نمایاں کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے محکمانہ نظم و ضبط پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے*۔
*ہسپتالوں کے مین گیٹس، داخلی و خارجی راستوں اور مختلف برانچز میں دفتری اوقات کے دوران سرکاری بئیررز،سیکورٹی گارڈرز و دیگر عملے کی غیر موجودگی اور سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث مریضوں اور لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے*۔
*آئے روز پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے تناظر میں عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ایم ایس جھنگ، ڈی ایچ او اور سی ای او ہیلتھ جھنگ فوری طور پر تحریری احکامات جاری کریں تاکہ تمام درجہ چہارم ملازمین کو ان کے اصل تقرری آرڈرز کے مطابق ڈیوٹیاں سونپی جائیں اور کسی بھی ممکنہ سانحہ سے بچا جا سکے*۔
*مزید برآں یہ امر بھی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے کہ متعدد برانچز میں سرکاری تقرری آرڈرز کے حامل ملازمین کی بجائے نجی کمپنیوں کے اہلکار دن رات خدمات انجام دیتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے شفافیت اور حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں*۔
*شہریوں اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال کی حدود میں داخلی و خارجی راستوں پر باقاعدہ سرکاری سیکیورٹی گارڈز اور متعلقہ عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے، غیر حاضر اور مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور محکمہ صحت جھنگ میں نظم و ضبط بحال کر کے عوام کو محفوظ طبی ماحول فراہم کیا جائے*۔
189









