گم گشتہ ریلوےاسٹیشن کے سحر
شام ہونے سے تھوڑا پہلے میں وہاں پہنچا تھا میرے سامنے تا حدِ نگاہ جنت نظیر وادی جموں وکشمیر کے سحر انگیز و دلفریب نظارے بکھرے پڑے تھے میں جہاں کھڑا تھا یہ ایک خوبصورت اجڑا ہوا، اداس، ویران پاکستان کا آخری سرحدی ریلوے اسٹیشن چک امرو تھا جو انگریز دورِ حکومت میں 1926ء کو تعمیر کیا گیا تھا تب شکرگڑھ ضلع کرداس پور کی تحصیل تھی جو 1947 کی پارٹیشن کے بعد ضلع سیالکوٹ میں شامل کردیا گیا تھا اور پھر 1991 میں نارووال ضلع بننے پر اس علاقے کو نارووال میں شامل کر دیا گیا، یہ لاہور سے چک امرو تک قریب ایک سو چالیس کلومیٹر لمبا ٹریک ہے جس پر چھوٹے بڑے بیس فنکشنل اور نان ایکٹو ریلوے اسٹیشن واقع ہیں بادامی باغ، شاہدرہ باغ ، سری رام پورہ، کوٹ مول چند، کالا خطائی، نارنگ منڈی، کوٹ کھنڈا، مہتہ سوجھا، بدو ملہی ، رعیہ خاص، داود بھینیاں، کلاس گورائیہ نارووال ، جسٹر علی آباد، کرتار پور دربار، اڈا بستان، نورکوٹ مینگڑی شکرگڑھ، آمریال، اور آخری چک امرو، اسی ٹریک پر واقع ایک قصبہ جسڑ ریلوے جنکشن سے ایک لائن ڈیرہ بابا نانک سے ہوتی ہوئی امرتسر اور گرداسپور پور کو بھی جاتی تھی یہ جسڑ 1965 کی جنگ میں جنگی محاذ کی وجہ شہرت بھی رکھتا ہے اور یہاں پاس ہی دریائے راوی کے کنارے سکھ مذہب کے بانی کی آخری آرام گاہ دربار بابا گرو نانک صاحب اور کرتار پور کوریڈور بھی واقع ہے، بات کہاں سے چلی تھی کہاں جا نکلی بہر حال یہ چک امرو ریلوے اسٹیشن شکرگڑھ سے قریب بارہ سے پندرہ کلومیٹر شمال مشرق میں جو بلکل جموں وکشمیر انڈیا پاکستان بارڈر پر واقع پاکستان کا آخری ریلوے اسٹیشن جو کبھی لوگوں کے درمیان دوریاں اور فاصلے مٹاتا تھا جو کبھی بچھڑے ہوؤں کو آپس میں ملاتا تھا اب جو دو دہائیوں قبل 2005 سے بلکل بند ہوچکا ہے جو دس لاکھ سے زائد لوگوں کی آمد و رفت کا سستا ترین ذریعہ تھا یہ ایک چھوٹے سے خوبصورت قصبہ چک امرو کے باہر ہرے بھرے کھیتوں میں آباد تھا جس کے ساتھ ہی ایک خوبصورت نالہ بئیں کشمیر کے پہاڑوں سے بہتا ہوا آتا ہے جو یہاں ماحول کو ایک سحر انگیز دلفریبی بخشتا ہے، انگریز دور کی دم توڑتی ہوئی ایک شاہکار یادگار جس کے آگے ریاست جموں و کشمیر کے خوبصورت اضلاع کٹھوعہ، سامبا اور جموں واقع ہیں کبھی یہ اسٹیشن آباد تھا آج یہ اجڑ کر ویران کھنڈرات اور بھوت بنگلہ کے منظر پیش کر رہا ہے اس کی لائنوں پٹریوں ٹریک کے درمیان اتنی گھاس اگ آئی ہے کہ اس کے شاندار ماضی کے گم گشتہ آثار بھی وقت کی بے رحم دھول میں مٹتے جا رہے ہیں آج اجڑے ہوئے جو ریلوے اسٹیشنز کی جس وحشت اور ویرانی کے ذکر ملتے ہیں کبھی یہ رومان پرور داستانوں سے بھرے پڑے تھے
آہ یادوں میں بچھڑ گئے لوگوں کی شہد جیسی مٹھاس بھی ہوتی ہے اور اجڑ گئے راستوں کی ڈنک مارتی جیسی چبھن بھی۔ چشم تصور میں دیکھتا ہوں تو صدیوں کے فاصلوں سے ڈستی ہوئی وہی حقیقت کہ وقت کبھی رکتا نہیں ہے وقت کا پنچھی پر لگائے رواں دواں رہتا ہے اور پیچھے دل سوز یادیں رہ جاتی ہیں۔ میں جذبات کی لہر میں بہہ کر تھوڑا ناسٹلیجک اور رومانوی ہونے پر معذرت چاہتا ہوں۔
زندگی میں کچھ نقصان کبھی پورے نہیں ہو سکتے. جیسے اگر کسی نے تمہیں ذہنی اذیت دی ہو، تمہاری سچی نیت، سچی محبت ،اور تمہارے دل سے کھلواڑ کیا ہو ، اور تمہاری عین جوانی کا قیمتی ترین وقت برباد کیا ہو ایسے ہی کچھ حالات اب اس عین جوانی میں اجڑتے ہوئے آخری ریلوے اسٹیشن کے تھے تو جہاں کبھی چہل پہل آمد و رفت آوازیں تھیں رونقیں خوشیاں اور زندگی تھی تقسیم سے قبل یہاں سے آگے جموں سامبا اور کٹھوعہ اضلاع کے دیہاتوں اور قصبات میں بسنے والوں کے لیے آمد و رفت ٹرانسپورٹ اور مواصلات کا ذریعہ بھی یہی ریلوے اسٹیشن تھا جہاں سے ٹرینیں نارووال سیالکوٹ، جموں، اکھنور، وزیر آباد، راولپنڈی،لاہور اور امرتسر، گرداسپور کو بھی چلتی تھیں اس آخری ریلوے اسٹیشن پر آخری بار ٹرین دو دہائیوں سے بھی قبل آئی تھی اس کے بعد سے یہ ٹریک اور اسٹیشنز ویران سنسان پڑے ہیں اب یہاں چار سو ایک ویرانی سی ویرانی پھیلی ہوئی ہے ان ویرانیوں کو دیکھ کے دل مسوس کے رہ جاتا ہے کبھی وہ وقت تھا کہ یہاں ریل کے انجن کی سیٹی بجتی تو اس کی آواز میلوں دور تک لہلہاتے سر سبز کھیتوں میں بسے دیہاتوں تک گونجتی۔ ہر دور ہر گزرا زمانہ اپنے پیچھے کئی افسانے کئی کہانیاں چھوڑ جاتا ہے کچھ کہانیاں مکمل ہو کر دل کو سکون دیتی ہیں اور کچھ ادھوری رہ کر عمر بھر یادوں میں بسی رہتی ہیں یہاں جن لوگوں نے ریل پر سفر کیا تھا گو اب زمانے گزرے ریل ادھر آنا بھول چکی ہے لیکن ان لوگوں کی سنہری یادوں میں آج بھی زندہ ہے ایسے ہی جیسے کچھ لوگ چند لمحوں کے لیے ہماری زندگی میں آتے ہیں لیکن اپنی موجودگی سے دلوں میں ایسے ان مٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جن کو وقت بھی نہیں مٹا پاتا۔ یہاں نئی نسلوں کی ریل سے ملاقاتیں ادھوری رہ گئیں تھیں ایسے ہی جیسے ادھوری ملاقاتیں اکثر مکمل رشتوں سے زیادہ دیر تک یاد رہتی ہیں بلکہ بھولتی ہی نہیں کیونکہ ان میں دبی خواہشیں باقی رہ جاتی ہیں کئی سوال ادھورے رہ جاتے ہیں اور دل ایک نہ ختم ہونے والے خاموش انتظار میں مبتلا رہتا ہے وقت ایک نئی کروٹ لے لیتا ہے انسان آگے بڑھ جاتا ہے لیکن کچھ چہرے کچھ لمحے کچھ خاموشیاں کچھ لوگ ہمیشہ دل کے کونے میں زندہ رہتے ہیں ایسے ہی پرانے لوگوں کو وہی ریل کی پرانی سیٹی کی آواز کانوں میں گونجتی سنائی دیتی ہے اور نئی نسل اس انتظار میں ہے کہ شاید دوبارہ وہ پرانا دور وہ گزرا زمانہ لوٹ کے آ جائے اور پھر سے یہاں کے لوگ ریل پر سفر کرسکیں، میں وہاں اس گمنام ریلوے اسٹیشن پر کھڑا تھا رات کا اندھیرا کافی پھیل چکا تھا میں چلتے ہوئے ریلوے ٹریک کے ساتھ سڑک پر بنے ایک ڈھابہ ہوٹل پر آ گیا اور کھانے کا آرڈر دیا ہوٹل والے نے دیسی مرغ کا گوشت پکایا ہوا تھا جو بہت مزیدار تھا گرم گرم خشک تندوری روٹی کے ساتھ تو اور بھی ذائقے کمال کے تھے کھانے کے بعد گرم کڑک چائے پی کر تازہ دم ہوکر میں نے اپنی چھوٹی سی گاڑی سٹارٹ کی اور واپسی کے لیے رخ کیا تو گاڑی کی لائٹوں کی روشنی دور تک سنسان سڑک پر پھیل گئی سڑک کے ساتھ ساتھ ویران ریلوے ٹریک کی پٹڑیاں بچھی ہوئی تھیں جن کے درمیان بہت زیادہ گھاس جھاڑیاں اور جنگلی پودے اگ آئے تھے سیانے سچ ہی کہتے ہیں کہ جب لوگ کنویں سے پانی بھرنا چھوڑ دیں تو کنویں کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں۔ شریف کنجاہی نے وقت کے اس تغیر زمانے کی اس بے ثباتی کے حوالے سے اپنی پنجابی شاعری میں ایک لازوال نظم کہی ہے
تیرا پنڈا پوری توت دی
تیری لگراں ورگی بانہہ ۔
تیرے بلھ نے پھلّ کریر دے
تیرا جوبن ون دی چھاں ۔
ایہہ چھاواں سدا نہ رہنیاں
رہے سدا اوس دا ناں ۔
اسیں ربّ سببی گوریئے
آ نکلے ایس گراں ۔
اساں جھٹّ دوپہر گزارنی
اساں بہتا نہیں پڑاں ۔
اساں پنڈ نہ پانے جوگیاں
اساں ملّ نہ بہنی تھاں ۔
کس پکے پاکے بیٹھنا
ایہہ دنیا اک سراں ۔
تیرے جوبن وانگوں گوریئے
اسیں کُلّ مسافر ہاں ۔ شاہد محمود سیالکوٹ 17/05/2026
51









