73

اک کمی سی رہ گئی

اک کمی سی رہ گئی

آج اتنے برسوں بعد اپنے انہیں پرانے بھولے بسرے راستوں سے گزر ہوا تو اس کی بھولی بسری یادوں کی رم جھم کی پھوار سی برسنے لگی تو دل تڑپ کے رہ گیا کہ جانے ہم سے ایسا کیا ہوا تھا کہ جانے کیوں وہ ہمیں اپنی محبتوں میں مبتلا کرکے بغیر کچھ کہے بتائے خود ہی دور ہوگئے ہم نے ان کے ہر لفظ ہر عہد وپیمان قول و اقرار کو سچ جانا ان کے ہر خواب میں قوس و قزاح کے رنگ بھرنے اور ان کو حقیقت بنانے کی سدا دل و جاں سے کوشش کی ہم نے ہر ممکن طریقے سے ان کو تھامے رکھنے کی چاہت کی مگر شاید ان کے فیصلے کہیں اور طے ہوچکے تھے وہ آہستہ آہستہ ہمارے ہاتھ سے پھسلتے گئے قسمت کی لکیروں سے ماند پڑتے گئے اور ایک دن خود ہی اپنی دنیا چن کر ہم سے الگ ہوگئے ہم رہ گئے، ان کی یادوں کے ساتھ اور اپنے سوالوں کے ساتھ کہ جانے کہاں کمی رہ گئی تھی ہم نے تو کبھی ساتھ چھوڑنے کا خواب میں بھی نہیں سوچا تھا مگر اس نے بغیر پیچھے دیکھے مڑے اپنا راستہ بدل لیا اب یہ اداسی بھی عجیب رت ہے، نہ مکمل طور پر رونے دیتی ہے نہ جینے دیتی ہے بس ایک خلا سا ہے جو ہر لمحہ یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ ہم نے تو کوشش بہت کی تھی مگر وہ خود ہی دور جانا چاہتے تھے ان شاداب چہرہ لوگوں کی اس بے رخی کے سے رویئے سے ہم جیسے لوگوں کو اگر مایوس کیا جائے تو ہم انتقام نہیں لیتے کسی کا دل نہیں دکھاتے کسی کو درد نہیں دیتے کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتے کسی کو کچھ بتاتے نہیں بلکہ اپنے کرچی کرچی ہوئے خواب اپنی بکھری ہوئی چیزیں سمیٹتے ہیں اور چپکے سے اپنے تنہائیوں کے شہر گمنام و گم گشتہ کو چلے جاتے ہیں گئے وقتوں کا قصہ پارینہ ہے ایک بار کسی خاص شاداب چہرہ شخص نے ہمارے دل کو دکھ سے بھر دیا تو ہم مکمل فنا نہیں ہوئے مر نہیں گئے بس ٹوٹتے گئے، مدھم پڑتے گئے دن بدن آہستہ آہستہ بغیر کسی آخری الوداع کہے یا چیختے چلاتے ہوئے اختتام کے ہماری ذات کا کچھ حصہ ہر روز بجھتا بکھرتا چلا گیا یہاں تک کہ روشنیاں ماند پڑیں، مسکراہٹیں تمام ہوئی، اور اداسیوں نے ہمیں آگھیرا۔ تنہائیوں نے ہمیں اپنا مسکن کر لیا تو ایسی مٹتی ہوئی دم توڑتی ہوئی زندگی کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئیے پھر سے جینے اور اس میں روشنیاں اور رنگ بھرنے کے لئیے ہمارے ایک استاد مجھے کہا کرتے دیکھو تمہیں سب کچھ خود ہی سیکھنا پڑے گا، تمہیں خود کو خود ہی ژندہ کرنا پڑے گا جو کچھ دوسرے تمہیں بتائیں گے وہ دوسروں کی اپنی کہانیاں ہی رہیں گیئں؛
صرف وہی بات جو تم خود سے سیکھو گے، تمہارا حصہ بنے گی اور تمہیں جینے میں مدد دے گی .. وہ کہتے سنو ہم جیسے لوگوں کے لئیے کتاب انسان کی سب سے مخلص اور مہربان دوست اور تنہائیوں کی رفیق ہوتی ہے؛ یہ خاموش رہ کر بھی وہ کچھ سکھا دیتی ہے جو دنیا کی کوئی آواز کوئی طاقت نہیں سکھا سکتی۔۔
ومن ذاق عرف ..

“میں نے کتاب سے بڑھ کر کوئی نیک وفادار ہمسایہ، کوئی انصاف کرنے والا سچا منصف اور ساتھی، کوئی فرمانبردار دوست، رفیق، کوئی عاجز مہربان استاد، کوئی ایسا ہم دم درینہ نہیں دیکھا جو اتنی زیادہ صلاحیت رکھتا ہو، اتنی کم غلطیاں کرتا ہو، اتنا کم تنگ کرتا ہو، اتنا کم اکتاہٹ و بوریت پیدا کرتا ہو، اتنا شک و شبہات سے پاک ہو، اتنا غیبت اور چغلی چغاری سے دور ہو، اتنا زیادہ کام کرنے والا ہو، اتنا کم تکلیف دہ ہو، اتنا بحث سے دور بے رغبت ہو، اور اتنی خوبصورتی سے مطابقت رکھتا ہو۔
اور جس نے کتاب کی صحبت کا مزہ چکھ لیا، وہ جان گیا۔”
کبھی کبھی نہ چاہتے ہوئے بھی پوری ایمانداری اور اپنی سی محنت مشقت کوشش کے باوجود بھی جب حالاتِ زندگی، مالی، سماجی، معاشرتی، طور پر سخت سے سخت تر ہوتے جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر طرف سے آزمائشوں نے گھیرا ڈال لیا ہے وہ کہتے ہیں ناں حالات جب سازگار نہ ہوں ہر پھینکا ہوا سیدھا پانسہ بھی الٹا پڑتا ہو تو تکلیف کبھی اکیلی نہیں آتی بلکہ اپنے ساتھ دوسری مشکلات درد تکلیف تنہائیوں کو بھی ساتھ لاتی ہے ایک طرف ضروریات زندگی کا بوجھ دوسری طرف دل کی تھکن انسان اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتا ہے حوصلے مرجھانے لگتے ہیں دل بجھنے لگتے ہیں کوئی آس امید دور دور تک نظر نہ آرہی ہو تو یقین جانئیے یہی وہ وقت ہوتا ہے جہاں انسان کی اصل طاقت اس کی ہمت حوصلے کا امتحان لیا جا رہا ہوتا ہے ایسے حالات میں ہمت جذبہ حوصلے ہار کر ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ایسی آزمائشیں ہمیں گرانے ہمیں توڑنے نہیں بلکہ سنوارنے آتی ہیں ایسے مشکل دن دراصل ہمیں ہمت حوصلے صبر استقامت برداشت اور اپنے رب پر ایمان اعتقاد، اعتماد، توکل، صدق، بھروسہ اور یقین سکھاتے ہیں کہ جو شخص ان حالات میں بھی حوصلہ نہیں چھوڑتا ہمت نہیں ہارتا دراصل وہی انسان کامیاب ہوتا ہے، ایک ڈچ کہاوت ہے کہ جس نے اپنا مال و دولت ہار دیا اس نے کچھ نہیں ہارا جس نے دوست احباب رشتے دار ہار دئیے اس نے کچھ نہیں ہارا جس نے حسن صحت سلامتی کھو دی اس نے کچھ حد تک نقصان اٹھایا لیکن اگر کسی نے حوصلہ ہمت ہار دی تو قریب قریب ایسے شخص نے یقین جانئیے سب کچھ ہار دیا تو کم از کم میں خود کو اس فہرست اور اس ہارے ہوئے گروہ میں نہیں دیکھنا چاہتا جو سب کچھ ہار جائیں میرا تو یقین کامل ہے ایمان واسق ہے اور یہ اللہ کا نظام ہے کہ کبھی آسانی کبھی تنگی کبھی غمی کبھی خوشی مگر جو صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے تو وہ ایک ناں ایک دن ان مشکلات سے سرخرو ہو کر نکلتا ہے اسی سلسلہ میں ابن عربی ارطغرل کو کہا کرتے ایک بات ہمیشہ یاد رکھو جب وقت اور حالات سخت ہوں تو شکوہ شکایت نہیں صبر شکر کرو کیونکہ یہی صبر شکر اور توکل کل کے سکون، راحت اور کامیابی کی بنیاد بنتا ہے

استاد محترم فرماتے دیکھو کبھی کبھار زندگی میں آپ کو کوئی ایسا بے لوث شخص ملتا ہے…
جو صرف تمہاری بات ہی نہیں سنتا بلکہ تمہارے الجھے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں اور اجڑی ویران آنکھوں کے پیچھے چھپے احساسات، خواب اور دل میں دبے جذبات کو بھی سمجھ لیتا ہے تمہاری خامشی اور چپ کو بھی جان لیتا ہے
ایسے شخص کے سامنے تمہیں خود کو بنانے سنوارنے الفاظ چننے یا وضاحتیں دینے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی…
بس وہ تمہارے اندر کی اُلجھنوں کو محسوس کرتا ہے
اور بنا کچھ کہے تمہارے ٹوٹے کرچی کرچی بکھرے خیالات کو ترتیب دینے لگتا ہے
یہی ہوتی ہے ذہنی ہم آہنگی…
نہایت نایاب مگر جب مل جائے تو سکون سا اُترتا ہے دل میں
یہ رشتہ الفاظ کا نہیں ہوتا احساس کا ہوتا ہے اور بہت مشکل سے ملتا ہے تو جب کبھی تمہیں ایسا کوئی شخص ملے تو کھونا نہیں اسے سنبھال سنبھال کے رکھنا
آنسو، عذاب، درد، اداسی، غموں کا قہر
آنکھوں میں سب اتار کے، تم کیوں چلے گۓ..

شاہد محمود سیالکوٹ
15/05/2026

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں